مہنگا پٹرول بہانا ، نظر انداز سرکاری نرخ نامہ، پنجاب میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ من مانا

لاہور ( پنجاب پوسٹ) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سرکاری نرخ نامے کے باوجود متعدد دکاندار پھل اور سبزیاں من مانی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں، جس کے باعث شہری مہنگے داموں اشیائے خور و نوش خریدنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں پٹرول پمپوں کو تیل کی سپلائی محدود، لاہور میں پٹرول کی فراہمی آدھی رہ گئی

مارکیٹ میں آلو 35 روپے کے بجائے 50 روپے، پیاز 95 کے بجائے 120 روپے اور ٹماٹر 270 روپے کے بجائے 300 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔اسی طرح چائنیز ادرک 330 روپے کے بجائے 400 روپے، بند گوبھی 110 کے بجائے 130 روپے جبکہ شملہ مرچ 320 روپے کے بجائے 420 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔گھیا توری 70 روپے کے بجائے 90 روپے، کھیرا 80 کے بجائے 100 روپے اور بھنڈی 150 روپے کے بجائے 170 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : جمعہ کا دن آتے ہی پٹرول پمپ مالکان کی بلیک میلنگ شروع ، لاہور میں پٹرول کی قلت

پھلوں کی قیمتوں کو دیکھا جائے تو کیلا 215 روپے کے بجائے 250 سے 280 روپے فی درجن، سفید خوبانی 320 روپے کے بجائے 350 سے 380 روپے جبکہ آم انور رٹول 315 روپے کے بجائے 350 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ سفید آڑو 280 روپے کے بجائے 320 روپے، آلو بخارا 400 روپے کے بجائے 450 روپے اور الائچی 675 روپے کے بجائے 750 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔

اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخ نامے کو نظر انداز کیے جانے کے باعث شہری مہنگے داموں خریداری پر مجبور ہیں، جبکہ پرائس کنٹرول مہم بھی غیر مؤثر دکھائی دے رہی ہے اور بیشتر مارکیٹوں میں سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ناجائز منافع خوری عروج پر ہے اور دکاندار سرکاری نرخوں کے بجائے اپنی مرضی کے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گرانفروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے اور سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے