لاہور( پنجاب پوسٹ) شہر میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں تاخیر نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں کئی پیٹرول پمپس پر بروقت پیٹرول اور ڈیزل نہ پہنچنے کے باعث پمپس بند ہو گئے، جس کے بعد شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
گرمی کی شدت میں شہری پیٹرول کے حصول کے لیے ایک پمپ سے دوسرے پمپ کا رخ کرتے نظر آئے، تاہم متعدد مقامات پر پیٹرول دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ کے کام، دفاتر اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایندھن انتہائی ضروری ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر پیٹرول کی دستیابی یقینی بنائے۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں بجلی چوروں کے گرد گھیرا تنگ، کتنے ہزار گرفتاریاں ہوئی ؟
لاہور میں تقریباً ساڑھے پانچ سو پیٹرول پمپس موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 30 فیصد پمپس پر سپلائی نہ پہنچنے کے باعث بندش کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ پیٹرول پمپ مالکان کے مطابق سپلائی کے معمول پر آنے کے بعد صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں تاخیر کی ایک وجہ ڈپو پر اسٹاک چیکنگ کا عمل بھی بتایا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے اور کسٹمز حکام کی جانب سے بعض پیٹرولیم مصنوعات کے ڈپو کا ریکارڈ اور اسٹاک چیک کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دو نجی پیٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم لیوی سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے باعث اسٹاک کی جانچ پڑتال جاری ہے، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں سپلائی کا عمل متاثر ہوا۔
حکام کی جانب سے صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا نظام فوری طور پر معمول پر لایا جائے تاکہ انہیں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔








