لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور سمیت سینٹرل پنجاب میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی شدید متاثر ہونے کے باعث پیٹرول کا بحران پیدا ہونے لگا پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پمپوں کو تیل کی فراہمی آدھی کردی ہے جس کی وجہ سے دیہی اور شہری علاقوں میں پیٹرول پمپس بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا، دوسری جانب آئل کمپنیوں نے کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بدلنے کے نظام کو اس تعطل کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سینٹرل پنجاب کے صدر چوہدری نعمان مجید نے موجودہ صورتِ حال پر تشویش ناک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرول پمپوں کو تیل کی سپلائی انتہائی محدود کر دی ہے، لاہور شہر میں آج طلب کے مقابلے میں صرف 50 فیصد تیل سپلائی کیا گیا ہے، سپلائی میں اس بڑی کٹوتی کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کا مہنگا ہونا بتایا جا رہا ہے، اس سپلائی چین کے متاثر ہونے سے دیہی علاقوں کے 90 فیصد اور شہری علاقوں کے 50 فیصد پیٹرول پمپ شدید متاثر ہوئے ہیں،
جہاں شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپلائی میں کمی جان بوجھ کر نہیں کی گئی بلکہ بندرگاہوں پر کسٹمز کلیئرنس کے عمل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے، جس کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پر زور دیتے ہیں کہ فوری طور پر مداخلت کرے اور ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں تبدیل کرنے کے مجوزہ یا نافذ العمل نظام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا، کمپنیوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل کا یہ فارمولا بالکل ناقابلِ عمل ہے، اس طرح کا روزمرہ کا اتار چڑھاؤ نہ تو عام عوام کے مفاد میں ہے اور نہ ہی اس سے کاروباری سرگرمیوں کو سازگار ماحول مل سکتا ہے۔










