سجادہ نشین حضرت شاہ چراغ رح مخدوم سید قاسم علی شاہ گیلانی کی سیکریٹری اوقاف احسان بھٹہ سے ملاقات :تذکرہ سخی سیدن سائیں پیش کی

لاہور(پنجاب پوسٹ) سجادہ نشین دربار و خانقاہ حضرت بالا پیرؒ و حضرت شاہ چراغ لاہوریؒ، مخدوم سید قاسم علی شاہ گیلانی الحسنی الحسینی الجعفری الجیلانی القادری نے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں کتاب ’’تذکرۃ حضرت سخی سیدن سائیں دیپالپوریؒ‘‘ خلوص، محبت اور عقیدت کے ساتھ پیش کی۔ملاقات کے دوران اولیائے کرام کی دینی، روحانی، علمی اور سماجی خدمات کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ پیش کی جانے والی کتاب میں حضرت سخی سیدن سائیں دیپالپوریؒ کی حیاتِ مبارکہ، تعلیمات، روحانی فیوض و برکات اور دینِ اسلام کی ترویج کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کا تذکرہ شامل ہے۔مخدوم سید قاسم علی شاہ گیلانی نے کہا کہ صوفیائے کرام اور بزرگانِ دین نے ہمیشہ محبت، رواداری، اخوت، امن، انسانیت اور خدمتِ خلق کا درس دیا۔ ان مقدس شخصیات کی زندگی اور تعلیمات پر مبنی کتب کی اشاعت سے نوجوان نسل کو اپنی دینی، روحانی اور تہذیبی روایات سے آگاہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس موقع پر پنجاب کے مزارات، خانقاہوں اور تاریخی مساجد کی حفاظت، زائرین کے لیے بہتر سہولیات، دینی و روحانی ورثے کی ترویج اور اولیائے کرام کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عام کرنے کی ضرورت پر بھی گفتگو کی گئی۔بعد ازاں مخدوم سید قاسم علی شاہ گیلانی نے دربار و خانقاہ حضرت شاہ چراغ لاہوریؒ پر حاضری دی اور روحانی فیوض و برکات حاصل کیے۔ انہوں نے جامع مسجد حضرت شاہ چراغ لاہوریؒ میں نمازِ جمعہ بھی ادا کی۔ اس موقع پر ملک و قوم کی سلامتی، استحکام، خوش حالی، باہمی اتحاد، امن و امان اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔مخدوم سید قاسم علی شاہ گیلانی الحسنی الحسینی الجعفری الجیلانی القادری دربار و خانقاہ حضرت بالا پیرؒ، حضرت شاہ چراغ لاہوریؒ، حضرت بابا شاہ نور محمد قادری قلندری لاہوریؒ، مخدوم سید مجتبیٰ شاہ گیلانی القادری لاہوریؒ اور حضرت سخی سیدن سائیں دیپالپوریؒ کے گدی نشین کی حیثیت سے متحرک ہیںسید قاسم علی شاہ گیلانی کا کہنا تھا ہمارے اجداد کی برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی ترویج میں گراں قدر خدمات ہیں لاہور ہائیکورٹ میں ہمارے جد اعلیٰ غضرت شاہ چراغ لاہوری کا مزار شریف ہے اور معروف ہے کہ مغل بادشاہ بھی انکا ارادت مند تھا اور یہ مزار و مسجد مغلیہ طرز تعمیر پر بنی ہے

اس ملاقات اور روحانی حاضری کو دینی و روحانی ورثے کے تحفظ، صوفیائے کرام کی تعلیمات کی ترویج اور سرکاری و روحانی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے