فیروز والا ( پنجاب پوسٹ ) فیروز والا میں کچن میں کام کرنے کے معاملے پر دیورانی اور جٹھانی میں جھگڑا ہوگیا، ساس اور جٹھانی نے مبینہ طور پر پیٹرول چھڑک کر دیورانی کو آگ لگادی۔ پولیس کے مطابق خاتون کا 70 فیصد جسم جھلس گیا، تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا،متاثرہ خاتون تشویشناک حالت میں میواسپتال لاہور ریفر کردی گئی۔
پولیس کے مطابق جھلسنے والی خاتون ایک بیٹی اور دو بیٹوں کی ماں ہے، پولیس نے مقدمہ درج کرکے جٹھانی نبیلہ اور ساس رضیہ کو گرفتار کرلیا۔
سوشل میڈیا پر متاثرہ خاتون کا بیان بھی وائرل ہے ، جس میں متاثرہ خاتون ہنی سحر کا کہنا ہے کہ اسکے خاوند کے غیر ازواجی تعلقات تھے ، لیکن کچھ عرصے سے وہ بچوں کو اسے مکمل وقت دے رہا تھا اور یہ بات اسکے سسرال کو کھٹک رہی تھی، اس نے شادی کے بعد گیارہ برس اپنی والدہ کے ہاں گزارے ، چند ماہ قبل شوہر کیساتھ سسرال آئی تھی، واقعہ کی شب اسکی اہلخانہ سے لڑائی بھی ہوئی تھی ، اسے گھر سے نکال دیا گیا ، تاہم پولیس کی مداخلت پر دوبارہ اپنے گھر گئی۔ لیکن وقوعہ کے روز جب وہ کچن میں بچوں کیلئے ناشتہ بنانے گئی تو اسکی ساس اور جٹھانی نے چھری اٹھا لی، جب چھری چھین کر پھینکی تو اس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ: فیروز والا اے سی چلانے پر تنازعہ، طیش میں آئے بیٹے کی فائرنگ سے باپ جان سے گیا، ماں بہن زخمی، ملزم گرفتار
خاتون کی والدہ کے مطابق وہ کرایے کے مکان میں رہائش پذیر ہے ، دس سال تک اس نے اپنی بیٹی اور اسکے بچوں کو پالا مگر اب اسکے پاس نوکری نہیں ہے اور وہ مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔
لڑکی کے بھائی کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی وجہ سے پنجاب پولیس انکے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں : عدالت نے بہن بھائی کے حفاظت میں دی ، بھائی نے غیرت کے نام پر مار ڈالا، گجرات کی ثمرہ کی دردناک کہانی














