لاہور ( پنجاب پوسٹ ) موسمیاتی تبدیلی نے بارش، سیلاب اور شدید گرمی جیسے چیلنجز کو پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع بنا دیا ہے۔ ایسے میں ایک سوال ہر شہری کے ذہن میں ہے کہ اگر اس سال مون سون شدت اختیار کرتا ہے تو کیا پنجاب اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ مون سون سیزن، ممکنہ سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب، چیف سیکرٹری پنجاب، چیئرمین این ڈی ایم اے، ایس ایم بی آر، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے "پنجاب کلائمیٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس پلان 2026” پیش کرتے ہوئے آئندہ تین برسوں کے لیے تیار کیے گئے جامع منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں : میٹرو بسوں میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات، مریم نوازکا نئی الگ بسیس دینے کا اعلان
اجلاس میں وفاق اور پنجاب کے درمیان شدید موسمیاتی ایونٹس کی بروقت پیشگوئی کے لیے ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ طے پایا کہ کسی بھی ممکنہ شدید موسمی صورتحال یا سیلابی خطرے سے کم از کم چھ گھنٹے قبل تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ اور معلومات کا تبادلہ یقینی بنایا جائے گا، تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس میں پنجاب کے تمام اضلاع، تحصیلوں اور حساس علاقوں میں سینٹرلائزڈ انفارمیشن اسکرینز نصب کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ عوام تک موسم، سیلاب، ہیٹ ویو اور دیگر ہنگامی صورتحال سے متعلق فوری اور مستند معلومات پہنچائی جا سکیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مون سون سے قبل تمام متعلقہ اداروں کو فوری موک ایکسرسائزز شروع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف منصوبہ بندی نہیں بلکہ عملی تیاری بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے پی ڈی ایم اے کو این ڈی ایم اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے، اوسط بارش، ہیٹ ویو زونز اور دیگر موسمی خطرات سے متعلق جامع ایڈوائزریز جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے شدید بارشوں اور گرمی کی لہر کے دوران کنٹرولڈ ٹورازم یقینی بنانے، سیلاب سے متاثرہ اضلاع کی لاجسٹکس مضبوط کرنے اور تمام اداروں کو مکمل الرٹ رکھنے کا حکم بھی دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ گزشتہ سال شدید سیلاب کے باوجود پنجاب میں کسی بڑی وبا کو جنم نہیں لینے دیا گیا۔ ان کے مطابق متاثرین کو ادویات، خوراک، پینے کے صاف پانی، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ کلینک آن ویلز اور فیلڈ ہسپتال متاثرہ علاقوں میں فوری تعینات کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں میں بھی کسی بڑے وبائی مرض کے پھیلاؤ کو کامیابی سے روکا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت اربوں روپے کی لاگت سے واٹر اسٹوریج کی گنجائش بڑھا رہی ہے، جبکہ واسا، ویسٹ مینجمنٹ، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کو جدید خطوط پر استوار کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق اب پنجاب کے ہر ضلع میں واسا کا آپریشنل نظام اور فلڈ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے جدید مشینری موجود ہے، جبکہ پہلے یہ سہولیات صرف چند بڑے شہروں تک محدود تھیں۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے پنجاب حکومت کی تیاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں موسمیاتی تبدیلی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں نمایاں کام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے قومی منصوبے پر کام کر رہی ہے اور پنجاب کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ کلائمیٹ ٹیگڈ بجٹ متعارف کرایا ہے، جبکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم پلانز پر عملدرآمد جاری ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ سال سیلاب کے دوران تقریباً 30 لاکھ افراد اور 25 لاکھ جانوروں کو کامیابی سے ریسکیو کیا گیا، جبکہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی، بیراجوں کی استعداد میں اضافہ، فلڈ بندوں کی تعمیر، جدید واٹر ریسکیو ڈرونز کی خریداری اور ریسکیو 1122 کی تکنیکی اپ گریڈیشن بھی مکمل کی جا چکی ہے۔
بریفنگ میں خبردار کیا گیا کہ شمالی علاقوں میں زیادہ بارشوں اور برف پگھلنے کے باعث دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے، جبکہ چکوال، تلہ گنگ، پوٹھوہار، جنوبی پنجاب، ڈی جی خان، ملتان، سرگودھا اور منڈی بہاؤالدین سمیت کئی اضلاع شدید گرمی، فلیش فلڈز اور کلاؤڈ برسٹ جیسے موسمی خطرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ حساس اضلاع کی فہرست پہلے ہی متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہے اور تمام ریسکیو اداروں، این جی اوز، فوج اور تربیت یافتہ رضاکاروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر وفاق اور پنجاب باہمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، بروقت وارننگ سسٹم اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے انسانی جانوں، املاک اور انفراسٹرکچر کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔








