ڈسکہ:خوشیاں ہوں تو ایسی ، 9 سال بعد اللہ تعالیٰ نے بیٹی عطا کی،پورے گاؤں کی مہنگی ترین دعوت، خوشی میں بھینسیں اور بکریاں تقسیم

ڈسکہ(پنجاب پوسٹ) نواحی گاؤں جامکے چیمہ میں 9 سال کے طویل انتظار کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک گھر کو بیٹی کی نعمت سے نوازا تو والد نے اپنی خوشی صرف گھر تک محدود رکھنے کے بجائے پورے گاؤں اور علاقے کے ساتھ بانٹ دی، ضرورت مند خاندانوں میں بھینسیں اور بکریاں تقسیم کردیں جبکہ پورے گاؤں کے لیے شاندار دعوت کا اہتمام کیا گیا۔

نو سال کے طویل انتظار کے بعد جب گھر میں ننھی پری کی آمد ہوئی تو والدین کی خوشی دیدنی تھی۔ بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں والد نے ایسا منفرد قدم اٹھایا جس نے نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ پورے گاؤں کو خوشی میں شریک کرلیا۔

جامکے چیمہ میں بیٹی کی آمد پر والد کی جانب سے ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیا گیا، جس میں گاؤں اور گردونواح سے بڑی تعداد میں لوگوں کو مدعو کیا گیا۔ خوشی کے اس موقع پر مہمانوں کی بھرپور تواضع کی گئی جبکہ ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے انہیں بھینسیں اور بکریاں بھی تقسیم کی گئیں۔

WhatsApp Image 2026 09 12 at 1.59.35 PM

مقامی سطح پر اس دعوت کو گاؤں کی مہنگی ترین دعوت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس خوشی کی اصل خوبصورتی صرف دعوت یا جانوروں کی تقسیم نہیں بلکہ وہ جذبہ تھا جس کے تحت ایک باپ نے اپنی بیٹی کی پیدائش کو پورے علاقے کی خوشی بنا دیا۔

والد نے نو سال کے انتظار کے بعد ملنے والی اس خوشی کو اپنے تک محدود رکھنے کے بجائے ضرورت مند خاندانوں کو بھی خوشی میں شریک کیا۔ بھینسوں اور بکریوں کی تقسیم کے ذریعے ایسے خاندانوں کی مدد کی گئی جن کے لیے یہ جانور روزگار اور معاشی سہارا بن سکتے ہیں۔

بیٹی کی پیدائش پر منعقد ہونے والی اس تقریب کا سب سے خوبصورت پہلو اس کے پیچھے موجود مثبت پیغام تھا۔ والد نے اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ بیٹی کی پیدائش کسی بوجھ یا افسوس کا نہیں بلکہ خوشی، محبت، عزت اور فخر کا موقع ہے۔

بیٹیاں گھر کی رونق اور والدین کی محبت کا خوبصورت حصہ ہوتی ہیں۔ معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کے حوالے سے پائی جانے والی بعض منفی سوچ کے برعکس جامکے چیمہ کے اس والد نے اپنی بیٹی کی آمد کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا اور اپنی خوشی کو پورے علاقے کے ساتھ بانٹ کر ایک مثبت مثال قائم کردی۔

WhatsApp Image 2026 09 12 at 1.59.36 PM

نو سال بعد ملنے والی بیٹی کی خوشی میں پورا گاؤں شریک ہوا، ضرورت مند خاندانوں کو جانور دیے گئے اور لوگوں کے لیے شاندار دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ یوں ایک گھر میں آنے والی ننھی پری کی خوشی دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کی خوشی بن گئی۔

جامکے چیمہ کی یہ خوبصورت روایت معاشرے کے لیے ایک متاثر کن پیغام بھی ہے کہ بیٹیوں کی پیدائش کو خوشی سمجھا جائے، انہیں محبت اور عزت دی جائے اور ان کی آمد کو بوجھ کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نعمت سمجھ کر منایا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے