میٹرو بسوں میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات، مریم نوازکا نئی الگ بسیس دینے کا اعلان

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) صبح کے اوقات ہوں یا شام کی واپسی، لاہور میٹرو بس سروس میں سفر کرنے والی ہزاروں خواتین کو اکثر رش، دھکم پیل اور ہراسگی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں پنجاب حکومت نے خواتین کے لیے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے ان کے روزمرہ سفر کو زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے اعلان کیا ہے کہ لاہور میٹرو بس سروس میں خواتین کے لیے خصوصی فلیٹ شامل کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ نے فوری طور پر 5 اسپیڈو بسیں خواتین کے لیے مختص کر کے میٹرو ٹریک پر آپریشنل کر دی ہیں۔

حکومت کے مطابق ان اضافی بسوں کا مقصد رش کے اوقات میں خواتین پر سفر کا دباؤ کم کرنا، انہیں ہراسگی جیسے مسائل سے بچانا اور زیادہ باوقار و پرسکون سفری ماحول فراہم کرنا ہے۔ ان بسوں کی شمولیت سے خواتین مسافروں کو میٹرو بس سروس میں بہتر سہولت میسر آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کے تحت کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق فی الحال اسپیڈو بسوں کو عارضی طور پر میٹرو فلیٹ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ خواتین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے مزید بتایا کہ حکومت مستقبل میں اضافی میٹرو بسیں خریدنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جنہیں مستقل بنیادوں پر خواتین کے لیے مختص کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو زیادہ محفوظ، آرام دہ اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی جاری رکھے گی۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہری خواتین کی جانب سے عوامی ٹرانسپورٹ میں بہتر سہولیات اور محفوظ سفر کے مطالبات مسلسل سامنے آ رہے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خصوصی بسوں کی یہ سہولت خواتین کے سفری تجربے میں کس حد تک مثبت تبدیلی لا پاتی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے