لاہور ( پنجاب پوسٹ )مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے دہائیوں سے تعلیم سے محروم ہیں، قوموں کا مستقبل شاہراہوں، عمارتوں اور نمائشی منصوبوں سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ نسل سے وابستہ ہوتا ہے، اس لیے حکومت محض اعلانات اور دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان کا کوئی بھی بچہ غربت، وسائل کی کمی یا انتظامی نااہلی کے باعث تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔
یہ بھی پڑھیں : صوبائیت کے بت کی پرستش چھوڑ کر عمرانی معاہدہ ضروری، مرکزی مسلم لیگ نے نئے صوبوں اور آئینی ترمیم کی حمایت کردی
ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، اگر ملک کا اتنا بڑا طبقہ بنیادی تعلیم سے محروم رہے گا تو غربت، بے روزگاری، انتہاپسندی اور سماجی ناہمواری جیسے مسائل مزید بڑھیں گے، قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے باوجود لاکھوں بچوں کو اسکولوں تک نہ پہنچا سکنا حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، ناکافی تعلیمی بجٹ، کمزور حکمرانی، غیر مربوط پالیسی سازی، سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے والدین کے لیے بچوں کو تعلیم دلانا مشکل بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں : دہشت گردی اور بدامنی کی بنیادی وجوہات تلاش کرکے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی
ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ 11 ارب کا جہاز خرید کر اسمبلیمیں سینئر وزیر کہتی ہیں کہ ہاں ہم نے خریدا کیا کر لوگے ،اب ذرا وہ اس بات کا جواب بھی دیں کہ پنجاب کے لاکھوں بچے تعلیم سے کیوںمحروم ہیں،ضرورت اس امرکی ہے کہ پنجاب سمیت تمام صوبوں میں تعلیم کو حقیقی قومی ترجیح بنایا جائے اور وفاق و صوبوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ہنگامی بنیادوں پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے، ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم کی آئینی ضمانت پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، نئے اسکولوں کے قیام، اساتذہ کی بھرتی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اسکول سے باہر بچوں کی مرحلہ وار واپسی کے لیے قابلِ عمل ٹائم لائن دی جائے.













