لاہور( پنجاب پوسٹ) لاہور کے علاقے کاہنہ نو، فیروزپور روڈ پر ایک گھر کی چھت منہدم ہونے کے افسوسناک واقعے میں 14 بچے جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے۔
ترجمان ریسکیو پنجاب کے مطابق ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر لاہور کو چھت گرنے کی اطلاع شام 4 بجکر 43 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد ریسکیو 1122 کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ایک گھنٹے میں مکمل کر لیا گیا، جس کے دوران ملبے تلے دبے 19 بچوں اور 30 سالہ خاتون کو بحفاظت نکالا گیا۔ زخمیوں کو تشویشناک حالت میں سی پی آر دیتے ہوئے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ کاہنہ، 14 بچے شہید، 20 بحفاظت نکال لئے گئے، مریم نواز نے اجلاس طلب کرلیا
ترجمان ریسکیو پنجاب کے مطابق حادثے میں 14 بچے جاں بحق ہوئے، جن میں 7 لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والے 12 بچوں کی عمریں 5 سے 9 سال کے درمیان تھیں، جبکہ دو بچیاں 11 اور 16 سال کی تھیں۔زخمیوں میں 30 سالہ خاتون اور 4 بچیاں شامل ہیں، جن کی عمریں 7 سے 11 سال کے درمیان ہیں۔ منہدم ہونے والی چھت ٹی آئرن، گارڈر اور ٹائلوں پر مشتمل تھی۔
ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں بروقت مکمل کر لی گئیں جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی، 14 بچےشہید، 20 ریسکیو، خاتون ٹیچر سمیت 5 زخمی ، آپریشن مکمل ہوگیا
ادھر کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے واقعے پر ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کی رپورٹ تیار ہوگئی ہے، رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ٹیوشن سنٹر ایک رہائشی گھر میں قائم تھا، ٹیوشن سنٹر کسی بھی سرکاری ادارے کے ساتھ منسلک نہیں تھا، حادثے کے وقت ٹیوشن سنٹر میں 25 سے 30 زیر تعلیم تھے، ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے انکوائری رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو ارسال کردی، ٹیوشن سنٹر کی رجسٹریشن کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں، رہائشی گھروں میں قائم نجی ٹیوشن سنٹر محکمہ تعلیم دائرہ رجسٹریشن میں نہیں آتے، سی ای او ضلعی انتظامیہ واقعے کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل طے کرےگی۔









