لاہور( پنجاب پوسٹ )وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاہنہ نجی اکیڈمی کی چھت گرنے کے واقعے کے ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سانحے میں 14 بچےشہید، 20 ریسکیو، خاتون ٹیچر سمیت 5 زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ کنسٹرکشن کے دوران ٹیوشن سنٹر کی چھت گر گئی۔ملبے تلے دبے 20 بچوں اور ایک خاتون کو ریسکیو کر کے نکالا گیا۔
خواجہ عمران نذیر کے مطابق 14 بچے ہسپتال میں مردہ حالت میں لائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ تین بچے زیر علاج ہیں جبکہ ایک بچے کو چلڈرن ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے اور وہ ہوش میں ہے۔ باقی بچوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے گھر بھیج دیا گیا تھا۔ دو بچے اب بھی ہسپتال میں ہیں، انہیں بھی جلد گھر بھیج دیا جائے گا۔
خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ بچوں سے بات ہوئی ہے اور وہ اچھی حالت میں ہیں۔واقعے کی تحقیقات کے لیے ہائی لیول کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔
شہید بچوں کے نام
کاہنہ ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے شہید ہونے والوں میں عبداللہ ولد مصطفیٰ عمر 8 سال، سلمان ولد وسیم عمر 08 سال،عروج دختر مصطفیٰ عمر 09 سال شامل ہیں۔ مہنور ولد فاروق بعمر 08 سال، تشبیہ دختر شہزادہ بعمر 07 سال، فواد ولد محمد عابد بعمر 08 سال اور ایمان فاطمتہ دختر مصطفیٰ بعمر 11 سال بھی شہید ہو چکے ہیں۔ خدیجہ دختر وسیم بعمر 12 سال،عروج دختر مرتضیٰ بعمر 06 سال، ارتضیٰ بعمر 04 سال،رمشا بعمر 06 سال اور علی ولد فرمان بعمر 06 سال بھی سانحے میں شہید ہوگئے۔ دیگر شہدا میں ارحم ولد حسن علی بعمر 8 سال، دعا دختر گلفام بعمر 07 سال اور عبداللہ ولد اصغر بعمر 07 سال شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا نوٹس
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چھت گرنے کے واقعہ کا فوری نوٹس لیا ہے اور اس ضمن میں زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ریسکیو پریشر تیز کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں ۔
وزیراعلی پنجاب نے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔اور ذمہ داروں کے تعین کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ مریم نواز شریف نے صوبائی وزراء کو ہدایت کی ۔جس کے بعد مشیر وزیراعلی پنجاب ذیشان ملک موقع پر پہنچ کر ریسکیو اپریشن کی نگرانی بھی کر رہے ہیں

ادھر سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی متعلقہ ایس پی اور ڈی ایس پی کو فوری موقع پر پہنچنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے راستہ فوری کلیئر کیا جائے۔ شہری حادثے کے مقام سے دور رہیں اور امدادی کارروائیوں میں تعاون کریں
قبل ازیں ایدھی ترجمان کا کہنا تھا کہ کاہنہ نو، فیروزپور روڈ پر قربان اسکول کے قریب ایک گھر کے کمرے کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 8 سے 10 بچے ملبے تلے دب گئے۔ ایدھی ایمبولینسز اور بھی فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
حادثہ کیسے رونما ہوا ؟
تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں پانچ مرلے کے گھر کے دو کمروں میں ٹیوشن سینٹر بنایا گیا تھا ۔ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام ہورہا تھا اور گراؤنڈ فلور پر بچے پڑھ رہے تھے،ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کے مطابق پولیس نے ابتدائی قانونی کارروائی کے تحت مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا۔واقعہ کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ برقرار ہے، واقعہ کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ لاہور پولیس متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن قانونی، انتظامی اور انسانی معاونت فراہم کر رہی ہے، ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے لاہور پولیس تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔









