لاہور(پنجاب پوسٹ)سائبر کرائم کے نام پر شہریوں کو مبینہ طور پر جعلی نوٹسز بھیج کر خوفزدہ اور ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آگیا۔ نئے آنے والے ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) علی ناصر رضوی کے دستخط سے منسوب مبینہ جعلی نوٹسز سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں اور شہریوں کو موصول ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک مبینہ نوٹس میں ایک شہری پر بچوں سے متعلق فحش تصاویر رکھنے اور سائبر کرائم میں ملوث ہونے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مبینہ نوٹس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سمیت مختلف سرکاری اداروں کے لوگو اور مہریں بھی استعمال کی گئی ہیں، جس سے نوٹس کو سرکاری ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔
نوٹس میں شہری کو ای میل کے ذریعے اپنی صفائی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ جواب دینے کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت دی گئی۔ نوٹس میں یہ دھمکی بھی دی گئی کہ مقررہ وقت میں جواب نہ دینے کی صورت میں عدالت سے گرفتاری کا وارنٹ حاصل کیا جائے گا اور متعلقہ شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مبینہ خط میں شہری کو جنسی مجرم کے طور پر رجسٹر کرنے اور اس سے متعلق کارروائی کو عوام کے سامنے تشہیر کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ معاملے نے سائبر کرائم کے نام پر شہریوں کو موصول ہونے والے ایسے نوٹسز کی قانونی حیثیت اور اصلیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 15 ارب ڈالر تک کیسے پہنچائی جارہی ہیں ؟
دستیاب مواد میں نوٹس کے جعلی ہونے کا الزام موجود ہے، اس لیے اسے حتمی سرکاری نوٹس قرار دینے کے بجائے مبینہ جعلی نوٹس کے طور پر بیان کیا جانا چاہیے۔










