تحریک انصاف کا مقصد بانی کی رہائی ، ہم اسلام آباد پٹرولیم لیوی کم کروانے جائیں گے ، حافظ نعیم

لاہور(پنجاب پوسٹ)مال روڈ لاہور پر جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا 30ویں روز بھی جاری ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 40 مقامات پر ایک ہی وقت میں دھرنے جاری ہیں اور بڑی تعداد میں عوام ان احتجاجی سرگرمیوں میں شریک ہو رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج اب محض جماعت کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی جماعت اسلامی میں شمولیت بھی ہو رہی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کسی ذاتی مفاد یا پارٹی پاور کی سیاست کے لیے نہیں کیا جا رہا۔

امیر جماعت اسلامی نے ملکی معیشت اور شرح سود پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو امریکی معیشت کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سود کی شرح کم ہوئی تو معیشت میں بہتری آئی، جبکہ چند بینکوں کے مفادات کے باعث شرح سود میں کمی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شرح سود میں 3 فیصد کمی کی جائے، جس سے پاکستان کو اربوں روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ اسٹیٹ بینک کو غیر ضروری طور پر خودمختار نہ بنایا جائے۔ انہوں نے توانائی اور ریفائنری کے شعبے میں اشرافیہ کے مفادات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئل اور ریفائنریوں کے شعبے میں مخصوص مفادات رکھنے والے گروہوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے اور چند لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بوجھ 25 کروڑ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے حکومتی طرزِ حکمرانی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ریفائنریز سمیت پورے شعبے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مجبور ہو کر ریلیف پیکیج کا اعلان کرنا پڑا، تاہم ابھی بھی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج جاری رہے گا اور 20 ستمبر کو اسلام آباد میں بڑا پاور شو کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد اپنے حقوق کے لیے جا رہی ہے اور وہاں دھرنا دے گی، کسی سے تصادم یا ہاتھا پائی کے لیے نہیں جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت پرامن احتجاج میں رکاوٹیں پیدا نہیں کرے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کو آئینی طور پر پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے احتجاج کا موازنہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مؤقف سے کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی کو جیل سے نکالنا ہے، جبکہ جماعت اسلامی کا مطالبہ مہنگائی میں کمی اور عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مختلف صوبوں میں بھی لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے حقوق کے لیے اسلام آباد جا رہی ہے اور احتجاج پرامن رہے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے