لاہور کی تین بہنوں کا عالمی اعزاز، ورلڈ اتھلیٹکس کوچنگ کورس کامیابی سے مکمل

لاہور :(پنجاب پوسٹ)سے تعلق رکھنے والی تین بہنوں آمنہ شہزاد، عائشہ شہزاد اور فاطمہ شہزاد نے ورلڈ اتھلیٹکس لیول ون بیسک کوچنگ کورس کامیابی سے مکمل کرکے ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ تینوں بہنوں کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے بلکہ پاکستان میں خواتین کی سپورٹس کوچنگ کے میدان میں بھی ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔25 سالہ آمنہ شہزاد، 23 سالہ عائشہ شہزاد اور 21 سالہ فاطمہ شہزاد اس وقت بی ایس ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے عالمی معیار کے کوچنگ کورس میں حصہ لیا اور کامیابی سے مکمل کیا۔ اس کورس کے ذریعے انہیں اتھلیٹکس کی بنیادی کوچنگ، کھلاڑیوں کی تربیت، فٹنس مینجمنٹ اور جدید سپورٹس تکنیکوں کے بارے میں تربیت فراہم کی گئی۔


تینوں بہنوں کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی جڑیں کھیلوں سے مضبوطی سے وابستہ ہیں۔ ان کے دادا فیاض محمود قریشی قومی سطح کے اتھلیٹ رہ چکے ہیں جبکہ ان کے والد شہزاد قریشی نیشنل سوئمر اور کرکٹ کوچ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن سے ہی کھیلوں کا ماحول انہیں میسر رہا اور انہوں نے اسی شعبے میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔آمنہ، عائشہ اور فاطمہ شہزاد کا کہنا ہے کہ ورلڈ اتھلیٹکس کا لیول ون کوچنگ کورس مکمل کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی میں حاصل کی جانے والی سپورٹس ایجوکیشن اور عملی تربیت انہیں کوچنگ کے میدان میں کامیاب ہونے میں مدد دے رہی ہے۔ تینوں بہنوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں مزید بین الاقوامی کوچنگ کورسز مکمل کرکے پروفیشنل اتھلیٹکس کوچز کے طور پر خدمات انجام دینا چاہتی ہیں۔


سپورٹس ماہرین کے مطابق خواتین کا کوچنگ کے شعبے میں آگے آنا نہ صرف کھیلوں کی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے نوجوان کھلاڑیوں، بالخصوص لڑکیوں کو بھی حوصلہ ملتا ہے۔ لاہور کی یہ تینوں بہنیں اپنی محنت، لگن اور عزم کے ذریعے نوجوان نسل کے لیے ایک بہترین مثال بن کر سامنے آئی ہیں۔ورلڈ اتھلیٹکس لیول ون کوچنگ کورس مکمل کرنے والی آمنہ شہزاد، عائشہ شہزاد اور فاطمہ شہزاد اب پاکستان میں اتھلیٹکس کے فروغ اور نئی نسل کی تربیت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی خواتین کھیلوں کے ہر شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔


Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے