لاہور:(پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ میں چکوال فائرنگ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے ایک اہم درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے معروف وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے، جس میں واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چکوال میں پیش آنے والا واقعہ پولیس کی مبینہ اندھا دھند فائرنگ کا نتیجہ ہے جس کے نتیجے میں 9 سالہ بچی ہانیہ احد جاں بحق ہو گئی جبکہ اس کے اہل خانہ زخمی ہوئے۔
درخواست گزار کے مطابق یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حادثہ نہیں بلکہ ایک بڑے اور سنگین ادارہ جاتی مسئلے کی علامت ہے، جس میں مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر احتساب اور شفافیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کی کارروائیوں کے دوران 2025 سے اب تک 924 سے زائد ہلاکتوں کے الزامات سامنے آ چکے ہیں، جو انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کسی حاضر یا ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرائی جائیں، جبکہ اس عمل میں بین الاقوامی معاونت، خصوصاً اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد بھی حاصل کی جائے تاکہ تحقیقات غیر جانبدار اور شفاف ہو سکیں۔مزید مطالبات میں کہا گیا ہے کہ تمام ذمہ دار سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف فوری مقدمات درج کیے جائیں، اور عدالت سی سی ڈی کے لیے انسانی حقوق سے ہم آہنگ قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا حکم دے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، وائرلیس لاگز اور اسلحہ ریکارڈ فوری طور پر محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی شواہد میں رد و بدل نہ ہو سکے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ صرف آزاد عدالتی تحقیقات ہی متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کر سکتی ہیں اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔















