لاہور:(پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ نے پنجاب بھر میں عوامی مقامات پر پبلک ٹوائلٹس کی عدم دستیابی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پبلک ٹوائلٹس کی تعمیر اور بحالی سے متعلق ہر تین ماہ بعد پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر یہ بھی وضاحت طلب کی ہے کہ آیا عوامی و نجی شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے تحت نئی سہولیات قائم کی جائیں گی یا نہیں۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جس میں صوبے بھر میں مناسب تعداد میں پبلک ٹوائلٹس نہ بنانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عدالت میں پیش ہوئے اور پبلک ٹوائلٹس سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کروائی۔رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 1420 پبلک ٹوائلٹس موجود ہیں، جن میں سے 1293 فعال اور اچھی حالت میں ہیں جبکہ 127 ٹوائلٹس خراب یا ناقابل استعمال قرار دیے گئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں مردوں کے لیے 672، خواتین کے لیے 568، مشترکہ استعمال کے لیے 114، ٹرانسجینڈر افراد کے لیے 5 اور خصوصی افراد (PWDs) کے لیے صرف 10 ٹوائلٹس دستیاب ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ موجودہ سہولیات پنجاب کی آبادی کے تناسب سے انتہائی ناکافی ہیں اور صوبے کی تقریباً 58 فیصد آبادی پبلک ٹوائلٹس جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، جس سے غفلت برتی جا رہی ہے۔
عدالت نے حکام کو صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔












ایک تبصرہ برائے “لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب میں پبلک ٹوائلٹس کی کمی پر اظہارِ تشویش، ہر تین ماہ بعد پیش رفت رپورٹ طلب”
[…] یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب میں پبلک ٹوائلٹس ک… […]