آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی؟پنجاب سے 5 سال میں 3258 لاپتہ لڑکیاں کہاں گئیں؟

لاہور( پنجاب پوسٹ)‏لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر سے لاپتہ بچیوں کو 15روز میں بازیاب کرانے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ کے پاس6سال تھے، کیا یہ وقت تھوڑا تھا؟یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی ہے۔جبکہ دوسری جانب پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایاگیاہے کہ2021سے اپریل 2026تک لاپتہ 3252 خواتین کے مقدمات درج ہوئے۔

مزیدپڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، خاتون کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے کہاکہ ایک ہزار405خواتین کو بازیاب کرالیاگیا، ایک ہزار853لاپتہ خواتین کو بازیاب کرانا باقی ہے۔بازیاب لڑکیاں محفوظ ہیں، کچھ نے شادی کرلی، کچھ اپنے گھروں میں ہیں،لاپتہ 80فیصد خواتین نے پسند کی شادیاں کیں۔یہ رپورٹ پیرکو لاہور ہائیکورٹ میں 4سال پہلے مبینہ لاپتہ لڑکی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کے دوران پیش کی گئی ہے ۔

لاہور میں بسنت کے دوران کتنی ہلاکتیں ہوئیں، مکمل تفصیل سامنے آگئ

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شعیب خرم عدالت پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر سے لاپتہ بچیوں کو 15روز میں بازیاب کرانے کا حکم دیدیا۔عدالت نے ڈی آئی جی کو ہدایت کی کہ لاپتہ لڑکیوں کی بازیابی کیلئے ہدایات جاری کریں،پولیس نے کہاکہ 2021سے اپریل 2026تک لاپتہ 3252 خواتین کے مقدمات درج ہوئے،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے کہاکہ ایک ہزار405خواتین کو بازیاب کرالیاگیا، ایک ہزار853لاپتہ خواتین کو بازیاب کرانا باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن میں خواتین اپنی شکایات کیسے درج کرائیں؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاپتہ خواتین کو بازیاب کرانے کیلئے کتنا وقت چاہئے؟ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے استدعا کی کہ 2ماہ کی مہلت دی جائے

چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کہاکہ آپ کے پاس6سال تھے، کیا یہ وقت تھوڑا تھا؟یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی ہے،جو خواتین بازیاب کرائی ہیں،کیا وہ محفوظ ہیں؟ڈی آئی جی پنجاب نے کہاکہ بازیاب لڑکیاں محفوظ ہیں، کچھ نے شادی کرلی، کچھ اپنے گھروں میں ہیں،لاپتہ 80فیصد خواتین نے پسند کی شادیاں کیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہاکہ لاپتہ لڑکیاں نہ جانے کس حال میں ہوں گی،لاپتہ لڑکیوں کے کیسز کا کوئی ڈیٹا بنایا ہے؟

شعیب خرم نے کہاکہ ہماری ٹیمیں ایسے گھناؤنے جرائم کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں،عدالت نے کہاکہ ایسے کیسز کا میکنزم بنایا جائے تاکہ تحقیقات آگے چل سکیں۔بعدازاں عدالت لاپتہ لڑکیوں کی بازیابی کے لیے پولیس کو پندرہ روز کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے