لاہور میں بسنت کے دوران کتنی ہلاکتیں ہوئیں، مکمل تفصیل سامنے آگئی

لاہور( پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں پابندی کے باوجود پتنگ بازی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جون کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے بعض دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی متفرق درخواست پر ہوم سیکرٹری سے جواب طلب کر لیا۔

جسٹس ملک اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت ہوم سیکرٹری نے عدالت میں تازہ رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق بسنت کے دوران 53 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کرنٹ لگنے سے 3 افراد جاں بحق ہوئے، درختوں سے گر کر 2 جبکہ چھتوں سے گرنے کے باعث 12 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح گلے پر ڈور پھرنے کے واقعات میں 65 افراد شدید زخمی ہوئے۔

عدالت نے ہوم سیکرٹری کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست گزار وکیل سے جواب الجواب بھی طلب کر لیا۔

درخواست گزار کے مؤقف میں کہا گیا کہ بسنت کے خاتمے کے باوجود غیر قانونی پتنگ بازی کا سلسلہ جاری ہے اور کیمیکل ڈور شہریوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ بسنت کے دوران کیمیکل ڈور اور پتنگوں کی ضبطی، محفوظ رکھنے کے مقامات، درج مقدمات، گرفتاریوں اور سزاؤں کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں جبکہ غیر قانونی پتنگ بازوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے