گرین پاکستان انیشی ایٹو پنجاب کے کسانوں کی قسمت کیسے بدل رہا ہے ؟

اسلام آباد( پنجاب پوسٹ) گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) نے زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کی سہولت کاری اور زرعی خود کفالت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے ملک میں جدید زراعت کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔

جی پی آئی کے تحت جدید زرعی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور اسمارٹ فارمنگ کے فروغ سے کاشتکاروں کو جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار اور کسانوں کی استعداد میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

چناب بیاس لنک ٹنل منصوبہ ، سوشل میڈیا پر  دعوے کی حقیقت کیا ہے ؟

لِمز پاکستان، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید زرعی رہنمائی کے نظام کے ذریعے کسانوں کو بروقت معلومات اور تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی سرمایہ کاری اور برآمدی مواقع میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

مقامی کسانوں نے جی پی آئی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گرین ایگری مالز کے قیام سے کھاد، زرعی ادویات، بیج اور مشینری مناسب قیمتوں پر ایک ہی جگہ دستیاب ہو رہی ہیں، جس سے ان کے اخراجات میں کمی اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔

کسانوں کے مطابق پینٹیرا کمپنی کی آمد سے بنجر علاقوں میں ہریالی لوٹ آئی ہے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور بنیادی سہولیات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی کو ممکن بنایا گیا ہے، جس سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔

پنجگور کے مقامی زمینداروں کا کہنا ہے کہ علاقے کی زرخیز زمینیں جدید زرعی منصوبوں کے ذریعے بہتر انداز میں استعمال ہوں گی، جس سے نہ صرف مقامی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ زرعی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔

کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی ترقی اور دیہی خوشحالی کے لیے ایسے منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ کاشتکار ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

مقامی کسانوں کے مطابق جی پی آئی کے اقدامات زرعی ترقی، کسانوں کی فلاح اور دیہی معیشت کے استحکام کے لیے ایک مثبت اور دور رس قدم ثابت ہو رہے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے