دعویٰ : انڈیا کی حکومت نے دریائے چناب کا پانی سرنگ بنا کر دریائے بیاس میں ڈالنے کیلیے 23.5 ارب ڈالر کے منصوبہ پر کام شروع کر دیا ہے
حقیقت : یہ دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے
مبالغہ نمبر 1۔۔۔ بھارتی حکومت کی سرکاری دستاویزات ، اور بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق منصوبے کی کل لاگت 2 ہزار 352 کروڑ بھارتی روپے ہے ، جسے 23.52 ارب امریکی ڈالر لکھ دیا گیا ہے ، حالانکہ امریکی ڈالرز میں اسکی لاگت 280 ملین بنتی ہے ۔
مبالغہ نمبر 2۔۔۔ دعویٰ کیا گیا کہ بھارت اس منصوبے سے 2 ملین ایکڑ فٹ پانی منتقل کیا جائے گا یعنی 8 فیصد پانی منتقل کیا جائے گا ۔ جبکہ ماہرین کے مطابق سرنگ کی ممکنہ گنجائش 0.5 سے 0.8 ملین ایکڑ فٹ کے درمیان ہے، جو بھارتی حدود میں دریائے چناب کے سالانہ بہاؤ کا 4 فیصد سے بھی کم بنتی ہے۔
مبالغہ نمبر 3۔۔۔ سوشل میڈیا صارف نے پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں جانے کا مشورہ دیا ہے ، یہ مشورہ بھی قابل عمل نہیں ہے، کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے آئی سی جے میں اس وقت تک نہیں جایا جاسکتا جب تک دونوں ممالک رضامند نہ ہوں ۔بھارت نے تو عام حالات میں عالمی عدالت جانے کو تیار ہوا ہے اور نہ ہی اب بھی جائے گا ، یوں یہ راستہ بھی عملی طور پر ناممکن اور بے نتیجہ ہوگا ۔

پاکستان اس وقت بھی مئوثر قانونی فورم پر یعنی سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم Court of Arbitration میں مقدمہ لڑ رہا ہے اور بھارت کی عدم شرکت کے باوجود پاکستان اپنے حق میں تین پابند فیصلے حاصل کر چکا ہے۔ ایسے میں آئی سی جے کا رخ کرنا ایک مضبوط قانونی پوزیشن کو چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔
جھوٹے دعوؤں کے باوجود دریائے چناب کا پانی بیاس میں ڈالنے کا منصوبہ پاکستان کیلئے باعث تشویش ضرور ہے مگر حقائق مسخ کرنا بھی درست نہیں ہے ۔
بھارت کہاں غلطی کر رہا ہے ؟
چناب سے پانی کو مشرقی دریا بیاس کی طرف منتقل کرنے کا منصوبہ سنجیدہ قانونی سوال پیدا کرتا ہے ۔ کیونکہ مغربی دریاؤں کے پانی کو مشرقی دریا میں منتقل کرنا ممکنہ طور پر معاہدے کی "let flow” (قدرتی بہاؤ برقرار رکھنے) کی شق کی خلاف ورزی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے پاکستان کو مضبوط تکنیکی اور قانونی دلائل کے ساتھ کورٹ آف آربیٹریشن کے سامنے اٹھانا چاہیے۔
غلط اعداد و شمار اور قانونی طور پر ناقابلِ عمل تجاویز پاکستان کے مؤقف کو مضبوط نہیں کرتیں بلکہ ان کامیابیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں جو پاکستان نے مسلسل تین ثالثی فیصلوں کی صورت میں حاصل کی ہیں۔










