لاہور (پنجاب پوسٹ) سیشن عدالت نے این سی سی آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتار اینکر پرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران ریحان طارق کی جانب سے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کے سامنے قانونی نکات اٹھائے کہ ایف آئی آر کے متن سے کوئی قابلِ دست اندازی جرم ثابت نہیں ہوتا، پاکستان کا کوئی بھی قانون تاریخی و مذہبی سوالات پر مبنی انٹرویو کرنے پر پابندی نہیں لگاتا، مقدمے میں صحافی کی کوئی ڈیوائس استعمال ہوئی اور نہ ہی زیرِ تنازعہ ویڈیو یا انٹرویو اپ لوڈ کرنے کا ایک بھی ثبوت ملزم کے خلاف ملا ہے۔
میاں داؤد نے کہا کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے ملزم کو گنہگار بنانے کے لیے جعلی ثبوت بنائے، ریحان طارق کے اصل فیس بک اکاؤنٹ سے معلومات لے کر ریحان طارق آفیشل نامی ایک غیر موجود جعلی فیس بک پیج سے منسوب کر کے مقدمہ گھڑا گیا، جس مذہبی سکالر جواد نقوی کا انٹرویو لیا گیا، اسے آج تک کیس میں ملزم نامزد ہی نہیں کیا گیا، زیرِ تنازعہ انٹرویو آج بھی جواد نقوی کے اپنے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف سوشل ایکٹوسٹ و ماہرِ نفسیات”ڈاکٹر نبیحہ علی” نے خلع مانگ لیا،آخر کیا وجہ بنی؟
اپنے دلائل میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی آر کی تمام دفعات ضابطہ فوجداری کی غیر ممنوعہ دفعات میں آتی ہیں، جن میں ملزم کو ضمانت ملنا اس کا آئینی حق ہے، اس کے علاوہ دفعہ 196 کے تحت لازمی حکومتی منظوری نہ ہونے کی صورت میں بھی ضمانت کا قانونی اصول طے شدہ ہے، اعلیٰ عدلیہ نے مذہبی تنازعات کے کیسز میں علما کرام کی رائے کو مقدم مان کر ضمانتیں دی ہیں، اور ابھی ٹرائل کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ گفتگو توہین کے زمرے میں آتی بھی ہے یا نہیں۔
بتایا گیا ہے کہ سماعت کے دوران این سی سی آئی کے ایس ایچ او نجم باجوہ نے درخواستِ ضمانت کی شدید مخالفت کی، انہوں نے عدالت کے سامنے اس بات کا باقاعدہ اعتراف کیا کہ انہوں نے علامہ جواد نقوی کو مقدمے میں ملزم نہیں بنایا، تاہم ریحان طارق کے سوالات دانستہ طور پر متنازعہ تھے اور ان کا انداز ایسا تھا جس سے مسلکی و مذہبی فساد کا خدشہ پیدا ہو سکتا تھا، لہٰذا ضمانت خارج کی جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد این سی سی آئی کے دلائل مسترد کر دیئے اور ملزم ریحان طارق کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔








