لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ: نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں کی حد مقرر کرنے کا پی ایم ڈی سی کا اختیار قانونی قرار

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے طلبہ و طالبات کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے من مانی فیسیں وصول کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرنے کا قانونی اختیار حاصل قرار دیا۔

جسٹس خالد اسحاق نے نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں سے متعلق درخواستوں پر 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے نجی میڈیکل کالجز کی تینوں درخواستیں مسترد کر دیں، جبکہ طلبہ کی جانب سے دائر 12 درخواستیں منظور کر لیں۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی کے فیسوں سے متعلق تینوں نوٹیفکیشنز برقرار رکھنے کا حکم بھی دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کو نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں کی نگرانی اور زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔ نجی کالجز فیسوں کے تعین اور وصولی میں پی ایم ڈی سی کے قواعد و ضوابط کے پابند ہوں گے اور طلبہ سے مقررہ حد سے زائد فیس وصول نہیں کر سکتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیسوں کے تعین میں نجی میڈیکل کالجز کی کاروباری آزادی پی ایم ڈی سی کے قانونی ریگولیٹری اختیار سے بالاتر نہیں ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ اضافی وصول کی گئی رقم طلبہ کو واپس کی جائے یا آئندہ فیس میں ایڈجسٹ کی جائے۔ طلبہ کی جانب سے اضافی فیسوں کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کے دعووں پر متعلقہ کالجز کو کارروائی کرنا ہوگی، اور یہ دعوے 30 ورکنگ دنوں کے اندر نمٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

فیصلے کے مطابق نجی میڈیکل کالجز کو فیسوں میں اضافے کا جواز اور آڈٹ شدہ مالی گوشوارے پی ایم ڈی سی کو فراہم کرنا ہوں گے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ فیسوں سے متعلق شکایات اٹھانے پر طلبہ کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں توہینِ عدالت کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے