لاہور (پنجاب پوسٹ) ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان میں نام نہاد جمہوری فارم 47 کی حکومت ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں طلبہ کو کبھی یونین کا حق نہیں دیا گیا۔ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں طلبہ کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور یونینز کے ذریعے نمائندگی کا حق حاصل ہے، مگر پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دور سے طلبہ کو اس بنیادی جمہوری حق سے محروم رکھا گیا ہے۔

حکمرانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں پڑھنے والے نوجوانوں کو طلبہ یونین کی آزادی حاصل نہیں تو پھر اسے کس طرح جمہوریت کہا جا سکتا ہے؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پنجاب کے زیراہتمام پائنیر پریمیئر لیگ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق، ناظمِ صوبہ پنجاب جنوبی حذیفہ عثمان، ناظمِ لاہور عبداللہ بن عباس اور ناظمِ جامعہ پنجاب احسن فرید بھی موجود تھے۔
طلبہ ہونینز کی بحالی کا مطالبہ
ناظمِ اعلیٰ نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ لسانیت، قومیت اور علاقائیت کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق نہیں چاہتی، تاہم طلبہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ رقص و موسیقی اور دیگر غیر سنجیدہ سرگرمیاں ان کے بنیادی مسائل کا حل نہیں ہیں۔ طلبہ اپنے حقوق کے لیے شعور، تحریک اور مزاحمت کا راستہ اختیار کریں گے۔ طلبہ کو اپنے حقوق کے لیے مؤثر آواز اٹھانے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے 24 نومبر کو پنجاب اسمبلی کے سامنے جمع کیا جائے گا۔
لاکھوں بچے تعلیم سے محروم
صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان واحد طلبہ تنظیم ہے جس نے طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔ صوبہ پنجاب اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ پنجاب میں 97 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 47 لاکھ، سندھ میں 74 لاکھ اور بلوچستان میں 34 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے فیصلہ کیا ہے کہ طلبہ کے بنیادی حقوق اور تعلیم کے مسائل کے حل کے لیے تمام صوبائی ہائیکورٹس میں قانونی جدوجہد کی جائے گی۔ خیبر پختونخوا میں بھی اس حوالے سے کیس دائر کیا گیا ہے۔ طلبہ کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ جامعات اور ہاسٹلز کے انفراسٹرکچر کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے خلاف بھی کیس دائر کریں گے۔
اسلامی فلاحی ریاست کا قیام
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نظریہ اسلام اور نظریۂ پاکستان کی تحریک ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ ایک عظیم وژن اور واضح مقصد رکھتی ہے۔ پاکستان نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ ہماری جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کی بالادستی ہو اور ریاستی نظام قرآن و سنت کے مطابق تشکیل پائے۔ ہم نظریۂ پاکستان کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے خواہاں ہیں۔
صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ تعلیمی اداروں میں قرآن و سنت کی بالادستی کی بات کرنے کے ساتھ طلبہ کے لیے صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کا بھی اہتمام کرتی ہے۔ جمعیت کا یہ امتیاز ہے کہ اس نے نیشنل محسنِ انسانیت سیرت کوئز کا انعقاد کیا، جس میں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی اور سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا۔
طلبہ کی فکری و تربیتی سرگرمیاں
اسی طرح قرآن کلاسز اور دیگر تربیتی و فکری سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو ان کے مقصدِ زندگی سے روشناس کرایا جاتا ہے، تاکہ وہ نظریہ پاکستان کو سمجھیں اور پاکستان کی تعلیم و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور نئی نسل کی فکری و تربیتی رہنمائی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی طلبہ کے حقوق، تعلیم، نظریاتی تربیت اور ملکی ترقی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔











