لاہور (پنجاب پوسٹ) وفد کے سربراہ ہا زینگ یو ، صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر چودھری خادم حسین ، سابق صدر شہزاد علی ملک ، چینی سفارتخانے کے منسٹر کونسلر یانگ گوانگ یوان نے خطاب کیا۔
چینی وفد کے سربراہ ہا زینگ یو نے پنجاب اور چین کے صوبہ سنکیانگ کے درمیان زراعت، ٹیکسٹائل، صنعت اور تجارت میں تعاون بڑھانے کی تجاویز پیش کیں۔سنکیانگ اور پاکستان کے درمیان پاکستانی کپاس، کاٹن یارن اور ٹیکسٹائل خام مال کی تجارت اور مشترکہ صنعتی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں
خنجراب بارڈر کے ذریعے تجارت میں سہولت، کراس بارڈر ای کامرس، بارٹر ٹریڈ اور زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ پتنگ بازی کا سامان تیار و ترسیل کرنے والے لائسنس ہولڈرز کھلی کچہری میں پیش
صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے کاروباری اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے بھرپور سہولت فراہم کرے گا۔پنجاب اور سنکیانگ زراعت، جدید آبپاشی، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل اور حلال میٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیںپنجاب پاکستان کا زرعی مرکز اور ٹیکسٹائل کی اہم صنعت کا حامل صوبہ ہے، سنکیانگ کی جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مہارت سے باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں
سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کظاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں چینی شہریوں اور سرمایہ کاروں کے لیے مناسب سہولیات اور سکیورٹی کے ساتھ چائنا ٹاو¿ن قائم کیا جائے۔چینی سرمایہ کار لاہور کے ہوٹلنگ، سیاحت، مہمان نوازی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کریں۔لاہور اپنے محل وقوع، ترقی یافتہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور تاریخی اہمیت کے باعث علاقائی تجارت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے
سابق صدر لاہور چیمبر شہزاد علی ملک نے کہا کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار 15 ملین بیلز سے کم ہوکر 5 سے 6 ملین بیلز رہ گئی ہے، چینی بیج ٹیکنالوجی اور جدید زرعی طریقوں سے پیداوار بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔نائب صدر لاہور چیمبر چودھری خادم حسین نے چینی وفد کے دورے کو پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی و کاروباری تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔
چینی سفارت خانے کے منسٹر قونصلر یانگ گوانگ یوان، سابق سینئر نائب صدر ذیشان خلیل، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران شیخ محمد ابراہیم، ساحر مشتاق، عدیل بابر خان، محمد عمر عبداللہ، نائلہ ندیم، شہزاد محمود، ذوالفقار علی چوہدری، محمد اعجاز غوری، طارق محمود، علی رضا، تنزیل الرحمٰن و دیگر بھی اجلاس میں موجود تھے۔










