سُتھرا پنجاب اور ایل ڈبلیو ایم سی گاڑیوں کے حادثات: سی ٹی او لاہور کا روڈ سیفٹی اقدامات فوری نافذ کرنے کا مطالبہ، 12 جانیں ضائع

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ٹریفک پولیس نے سُتھرا پنجاب اتھارٹی اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کی گاڑیوں سے ہونے والے مہلک حادثات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور نے سُتھرا پنجاب اتھارٹی کو ایک بار پھر باضابطہ مراسلہ لکھ کر روڈ سیفٹی اقدامات فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025-26 کے دوران سُتھرا پنجاب اور ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑیوں کے 06 مہلک حادثات میں 12 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ سی ٹی او لاہور نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

سی ٹی او لاہور نے ہدایت کی ہے کہ ڈرائیورز کی باقاعدہ تربیت، میڈیکل فٹنس اور گاڑیوں کی مکینیکل جانچ کو یقینی بنایا جائے۔ مراسلے میں سُتھرا پنجاب کی گاڑیوں کے تمام ڈرائیورز کا مکمل ریکارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور میڈیکل فٹنس کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

ٹریفک پولیس نے بریک، ٹائر، لائٹس اور ریورس الارم سمیت تمام حفاظتی آلات کی باقاعدہ جانچ کی ہدایت کی ہے تاکہ تکنیکی خرابی کے باعث کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔ سی ٹی او نے صفائی گاڑیوں میں جدید سیفٹی فیچرز کو لازمی قرار دینے کی بھی سفارش کی ہے۔

سی ٹی او لاہور نے ہیوی ویسٹ مینجمنٹ گاڑیوں کی پیک آورز میں نقل و حرکت پر پابندی کی سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ تجویز دی گئی ہے کہ شہر کی مصروف شاہراہوں پر صفائی آپریشن رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک چلایا جائے تاکہ ٹریفک کے رش کے دوران حادثات کے خطرات کم ہوں۔

مراسلے میں بڑے کچرا بردار ٹرکوں کے بجائے چھوٹی گاڑیوں کے استعمال کا ماڈل اپنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ مزید برآں، غفلت کے مرتکب ڈرائیورز کے خلاف سخت کارروائی، مؤثر نگرانی اور مسلسل تربیت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

لاہور میں روڈ سیفٹی بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس کی جانب سے سُتھرا پنجاب اور ایل ڈبلیو ایم سی کو جامع سفارشات جاری کر دی گئی ہیں۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ محفوظ سفر اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے