لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے سے متعلق قانون کی تفصیلی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دفتر میں ہر نامناسب، غیر پیشہ ورانہ یا بدتمیزی پر مبنی رویہ قانونی طور پر ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آتا، تاہم صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک بھی ہراسمنٹ کی تعریف میں شامل ہو سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہراسمنٹ کے لیے رویے کا جنسی نوعیت کا ہونا ہر صورت ضروری نہیں۔
جسٹس محمد اجمل زاہد نے ڈاکٹر محی الدین دلشاد اور خاتون آسیہ منیر کی جانب سے دائر آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب ، 5سال میں 3 ہزار 258 خواتین لاپتہ ،2ہزار 806 بازیاب,452 تاحال تلاش نہ کی جاسکیں
کیس کا پس منظر
کیس میں ایک خاتون نے ڈاکٹر کے خلاف ہراسمنٹ کی شکایت کی تھی، جس پر کارروائی کے بعد ڈاکٹر کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی۔ بعد ازاں گورنر پنجاب نے اس سزا کو کم کرتے ہوئے ڈاکٹر کی ایک سالانہ انکریمنٹ روکنے کی سزا میں تبدیل کر دیا۔
اس فیصلے کو دونوں فریقوں نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ خاتون کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ڈاکٹر کی جبری ریٹائرمنٹ کی اصل سزا بحال کی جائے، جبکہ ڈاکٹر نے بھی اپنی سزا کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے گورنر پنجاب کا فیصلہ برقرار رکھا، یعنی ڈاکٹر کی ایک سالانہ انکریمنٹ روکنے کی سزا بدستور قائم رہے گی۔
ہراسمنٹ اور دفتری بدتمیزی میں فرق
فیصلے میں عدالت نے ہراسمنٹ اور دفتری بدتمیزی کے درمیان قانونی فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ:
1-غیر پیشہ ورانہ رویہ محکمانہ مس کنڈکٹ تو ہو سکتا ہے، لیکن لازماً ہراسمنٹ نہیں ہوتا۔
2-محض نامناسب گفتگو یا بدتمیزی کو ہراسمنٹ قرار دے کر محتسب کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جا سکتا۔
3-ہراسمنٹ کے الزام پر کارروائی کے لیے قانون میں درج شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
4-صنفی امتیاز بھی ہراسمنٹ ہو سکتا ہے
5-عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کے ساتھ صنفی بنیاد پر کیا جانے والا امتیازی سلوک بھی ہراسمنٹ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ہراسمنٹ کے لیے ضروری نہیں کہ رویہ جنسی نوعیت کا ہو، بلکہ صنف کی بنیاد پر روا رکھا گیا ناروا سلوک بھی قانون کی نظر میں ہراسمنٹ شمار ہو سکتا ہے۔
شکایت میں تفصیلات کا معاملہ
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہراسمنٹ کی شکایت میں تاریخ، وقت اور مقام کی مکمل تفصیل درج نہ ہونا، شکایت کو مسترد کرنے کے لیے کافی جواز نہیں ہے۔ اس طرح عدالت نے شکایت کنندگان کے لیے ایک اہم قانونی گنجائش بھی برقرار رکھی۔











