دفتر میں بدتمیزی اور ہراسمنٹ دونوں الگ ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کے قانون کی تشریح کردی

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے سے متعلق قانون کی تفصیلی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دفتر میں ہر نامناسب، غیر پیشہ ورانہ یا بدتمیزی پر مبنی رویہ قانونی طور پر ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آتا، تاہم صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک بھی ہراسمنٹ کی تعریف میں شامل ہو سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہراسمنٹ کے لیے رویے کا جنسی نوعیت کا ہونا ہر صورت ضروری نہیں۔

جسٹس محمد اجمل زاہد نے ڈاکٹر محی الدین دلشاد اور خاتون آسیہ منیر کی جانب سے دائر آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

کیس میں ایک خاتون نے ڈاکٹر کے خلاف ہراسمنٹ کی شکایت کی تھی، جس پر کارروائی کے بعد ڈاکٹر کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی۔ بعد ازاں گورنر پنجاب نے اس سزا کو کم کرتے ہوئے ڈاکٹر کی ایک سالانہ انکریمنٹ روکنے کی سزا میں تبدیل کر دیا۔

اس فیصلے کو دونوں فریقوں نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ خاتون کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ڈاکٹر کی جبری ریٹائرمنٹ کی اصل سزا بحال کی جائے، جبکہ ڈاکٹر نے بھی اپنی سزا کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی۔

عدالت نے دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے گورنر پنجاب کا فیصلہ برقرار رکھا، یعنی ڈاکٹر کی ایک سالانہ انکریمنٹ روکنے کی سزا بدستور قائم رہے گی۔

فیصلے میں عدالت نے ہراسمنٹ اور دفتری بدتمیزی کے درمیان قانونی فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ:
1-غیر پیشہ ورانہ رویہ محکمانہ مس کنڈکٹ تو ہو سکتا ہے، لیکن لازماً ہراسمنٹ نہیں ہوتا۔
2-محض نامناسب گفتگو یا بدتمیزی کو ہراسمنٹ قرار دے کر محتسب کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جا سکتا۔
3-ہراسمنٹ کے الزام پر کارروائی کے لیے قانون میں درج شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔

4-صنفی امتیاز بھی ہراسمنٹ ہو سکتا ہے

5-عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کے ساتھ صنفی بنیاد پر کیا جانے والا امتیازی سلوک بھی ہراسمنٹ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ہراسمنٹ کے لیے ضروری نہیں کہ رویہ جنسی نوعیت کا ہو، بلکہ صنف کی بنیاد پر روا رکھا گیا ناروا سلوک بھی قانون کی نظر میں ہراسمنٹ شمار ہو سکتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہراسمنٹ کی شکایت میں تاریخ، وقت اور مقام کی مکمل تفصیل درج نہ ہونا، شکایت کو مسترد کرنے کے لیے کافی جواز نہیں ہے۔ اس طرح عدالت نے شکایت کنندگان کے لیے ایک اہم قانونی گنجائش بھی برقرار رکھی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے