لاہور (پنجاب پوسٹ)حکومت پنجاب کی جانب سے سموگ کے تدارک کے لیے سخت احکامات اور دھواں چھوڑنے والے صنعتی یونٹوں و اینٹوں کے بھٹوں کی فوری بندش کی ہدایات کے باوجود تحصیل نشتر میں ضلعی انتظامیہ سموگ پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ دھواں چھوڑتے کارخانے اور بھٹے ماحول اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحصیل نشتر کے مختلف انڈسٹریل ایریاز میں روزانہ متعدد فیکٹریاں اور کارخانے زہریلا اور کالا دھواں خارج کر رہے ہیں۔ اس آلودگی کے باعث شہریوں میں سانس، آنکھوں اور گلے کی سنگین بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
حیران کن امر یہ ہے کہ یہ زہریلا دھواں اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) نشتر کے دفتر کے بالکل اوپر سے گزرتا ہے، اس کے باوجود علاقائی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں انسدادِ سموگ آپریشن، 5 صنعتی و تجارتی یونٹس سیل، 42 گاڑیوں کے چالان
مزید یہ کہ یہ تمام صورتحال لاہور کی اہم شاہراہ رنگ روڈ سے متصل علاقوں میں پیش آ رہی ہے، جہاں روزانہ وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام کی آمد و رفت رہتی ہے۔ اتنے حساس روٹ کے قریب صنعتی آلودگی کا یہ عالم ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی اور کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب اور محکمہ تحفظ ماحول (EPA) سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غفلت برتنے والے افسران اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے صنعتی یونٹوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن کیا جائے تاکہ شہریوں کو زہریلی فضا سے نجات مل سکے۔











