لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 273 ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ہوا کی رفتار 5 کلومیٹر فی گھنٹہ اور سمت شمال مغربی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر سموگ کے خاتمے کے لیے سموگ گنز آپریشن اور پانی کا چھڑکاؤ مسلسل جاری ہے جبکہ متعلقہ محکموں کے افسران فیلڈ میں متحرک ہیں۔
حکومتی اقدامات کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ صنعتی یونٹس، اینٹوں کے بھٹوں، پلاسٹک کے استعمال اور کمرشل کچنز کی سخت نگرانی کی گئی۔ صوبے بھر میں 258 صنعتی یونٹس کی انسپیکشن کے دوران 5 یونٹس سیل اور 10 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھین؛”شافع میرا چھوٹا بھائی ہے، اس سے دوری نہ کبھی کی ہے نہ کبھی کروں گا”،سالک حسین
اسی طرح 452 اینٹوں کے بھٹوں کی جانچ پڑتال کے دوران 3 بھٹے مسمار، 4 سیل اور 4 کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جبکہ 7 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف کارروائی میں 153 مقامات کی چیکنگ، 3 مقامات سیل اور 1462 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا جبکہ 65 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا۔
باربی کیو اور کمرشل ککنگ پوائنٹس کے خلاف کارروائی کے دوران 121 مقامات کی انسپیکشن کی گئی، 12 مقامات سیل کیے گئے اور 63 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کیے گئے جبکہ ایک لاکھ 80 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
حکام کے مطابق ڈرون، نائٹ اور ہاک آئی فیلڈ اسکواڈز کے ذریعے آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اڑتی ہوئی دھول کی روک تھام کے لیے 17 مقامات کا معائنہ کیا گیا، 9 کو نوٹس جاری، ایک مقام سیل اور 2 مقامات پر سپرنکلرز نصب کیے گئے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آلودگی کے مقامی ذرائع کی روک تھام، مسلسل مانیٹرنگ اور فیلڈ انفورسمنٹ بیک وقت جاری ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے فصلیں نہ جلانے، گاڑیوں کی فٹنس یقینی بنانے اور آلودگی پھیلانے والے عوامل کی نشاندہی میں تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔











