لاہور(پنجاب پوسٹ)بادشاہی مسجد میں موجود تبرکاتِ مقدسہ اور قرآن گیلری کی حفاظت کے لیے پنجاب حکومت روایتی طریقوں کے ساتھ جدید سائنسی اور تکنیکی نظام متعارف کرا رہی ہے۔ شو کیسز میں درجہ حرارت اور نمی کو کنٹرول کرنے والے جدید سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔
ریشمی اوراق کو سلور فش کے اثرات سے پاک کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے، قرآن گیلری کو عالمی میوزیم اسٹینڈرڈز کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی بھی بین الاقوامی معیار کی ہے۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے آج بادشاہی مسجد کے دورے میں انہی اقدامات کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں۔
دورے کی تفصیلات
سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے بادشاہی مسجد، اقبال ہال اور قرآن گیلری کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے نئی تبرکات گیلری کا بھی معائنہ کیا اور وہاں رکھے گئے تبرکاتِ مقدسہ کی حفاظت کے موجودہ انتظامات کا جائزہ لیا۔ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے انہوں نے متعلقہ حکام کو احکامات دیے۔
یہ بھی پڑھیں؛اکبری سرائے: جو کبھی مسافروں کا سہارا تھی، آج خود سہارے کی منتظر ہے
قرآن گیلری کی اپ گریڈیشن
ڈاکٹر احسان بھٹہ نے قرآن گیلری کو عالمی میوزیم اسٹینڈرڈز کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ شو کیسز میں درجہ حرارت اور نمی کو کنٹرول کرنے کے جدید سسٹم انسٹال کیے جائیں گے۔ تاریخی مخطوطات اور نوادرات کے لیے یہ دونوں عوامل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ماحول میں اتار چڑھاؤ کاغذ، ریشم اور دیگر نازک اشیا کو وقت کے ساتھ نقصان پہنچاتا ہے۔
ریشمی اوراق اور سلور فش کا خاتمہ
سیکرٹری اوقاف نے بتایا کہ ریشمی اوراق سے سلور فش کے اثرات کے خاتمے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ سلور فش ایک چھوٹا کیڑا ہے جو پرانے کاغذ اور کپڑے کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے اس کا تدارک نوادرات کے تحفظ میں اہم مرحلہ ہے۔
بوسیدہ اوراقِ قرآن کی حفاظت
انہوں نے کہا کہ بوسیدہ اوراقِ قرآن کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ ان اوراق کی دیکھ بھال میں ادب و احترام اور سائنسی اصولوں، دونوں کو ملحوظ رکھا جائے۔
سیکیورٹی کے انتظامات
ڈاکٹر احسان بھٹہ کے مطابق قرآن گیلری کی سیکیورٹی بین الاقوامی معیار کی حامل ہے۔ انہوں نے تبرکاتِ مقدسہ کی حفاظت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے احکامات بھی جاری کیے۔
چھتوں اور گنبدوں کی نگہداشت
دورے کے دوران سیکرٹری اوقاف نے ہدایت کی کہ چھتوں کے رساؤ اور گنبدوں کی نگہداشت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ بارش اور نمی کا رساؤ تاریخی عمارتوں کے ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے اور اندر رکھے نوادرات کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
تزئین و آرائش اور کنزرویشن
انہوں نے کہا کہ تزئین و آرائش اور کنزرویشن کے امور مزید تیز کرنے کا عمل جاری ہے اور تاریخی مساجد و مقابر کی حفاظت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
سیکرٹری اوقاف کا مؤقف
ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ بادشاہی مسجد، قرآن گیلری اور تبرکاتِ مقدسہ امتِ مسلمہ کا عظیم اثاثہ ہیں۔ ان کے بقول تاریخی و مذہبی ورثے کا تحفظ حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔












