اکبری سرائے: جو کبھی مسافروں کا سہارا تھی، آج خود سہارے کی منتظر ہے

لاہور کی گہما گہمی سے ذرا ہٹ کر، شاہدرہ کی فضا میں ایک ایسی عمارت آج بھی کھڑی ہے جس کی دیواروں میں صدیوں کے قافلوں کی گرد، گھوڑوں کی ٹاپوں کی بازگشت اور مسافروں کی دعائیں رچی بسی ہیں۔ یہ اکبری سرائے ہے، مغلیہ دور کی وہ شاندار قیام گاہ جہاں کبھی شاہی شاہراہ کے تھکے ہارے مسافر پناہ لیتے اور اگلی منزل کے لیے تازہ دم ہوتے تھے۔ وقت نے اس پر خستہ حالی کی چادر ڈال دی، مگر آج بحالی کے ذریعے اس کی کھوئی ہوئی پہچان لوٹانے کی کوشش جاری ہے۔

اس سرائے کی بنیاد سوری دور میں رکھی گئی، مگر اسے اصل جلال شاہ جہاں کے عہد میں ملا، جب اس کے کئی حصوں کی تعمیر و آرائش ہوئی اور اینٹوں پر مغلیہ ذوقِ تعمیر کی چھاپ گہری ہوتی گئی۔ تقریباً 12 ایکڑ پر پھیلی یہ عمارت اپنے 180 کمروں، کشادہ برآمدوں، محرابی راستوں اور ایک تاریخی مسجد کے ساتھ اس دور کے نظامِ سفر اور مسافر نوازی کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔

صدیاں گزریں تو زمانے کی گرد نے اس ورثے کو دھندلا دیا۔ نمی نے دیواروں میں گھر کر لیا، چھتوں سے پانی کا رساؤ اینٹوں کو کمزور کرتا گیا اور بوسیدگی نے عمارت کی اصل شناخت مدھم کر دی۔ جو سرائے کبھی سینکڑوں مسافروں کو پناہ دیتی تھی، وہ خود پناہ کی محتاج ہو گئی۔

2023 میں شاہدرہ کمپلیکس والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے حوالے کیا گیا اور یہیں سے اس ورثے کی قسمت نے کروٹ لی۔ پنجاب والڈ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجینئرنگ ملک محمد وقاص کے مطابق چھتوں سے پانی کے رساؤ پر قابو پا لیا گیا ہے، کمروں کی بحالی جاری ہے، جبکہ مسجد کی بحالی مکمل ہو چکی ہے۔ ماہرِ آثارِ قدیمہ سردار سجاول خان کے مطابق بحالی کا بنیادی مقصد ان عوامل پر قابو پانا ہے جو عمارت کو نقصان پہنچا رہے تھے، تاکہ اس کی اصل شناخت برقرار رہے۔

اکبری سرائے محض اینٹ اور گارے کا ڈھانچہ نہیں، ہماری اجتماعی یادداشت کا ایک روشن باب ہے۔ جب آپ ان محرابوں کے نیچے سے گزرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے صدیاں سرگوشیوں میں ہم سے ہم کلام ہیں۔ ہر بحال ہوتا کمرہ اور ہر محفوظ محراب اس بات کا اعلان ہے کہ ماضی کو بچانا دراصل مستقبل کو بچانا ہے۔

کبھی یہ سرائے مسافروں کو پناہ دیتی تھی، آج ہماری باری ہے کہ ہم اسے پناہ دیں

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے