مقبرہ آصف خان: وقت کی گرد میں دبی مغلیہ عظمت

اونچا گنبد، آٹھ کونوں پر مشتمل عمارت، کبھی سنگِ مرمر اور رنگین کاشی سے سجی دیواریں… آج ان کی جگہ خستہ اینٹیں، اکھڑی ہوئی آرائش اور ماضی کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں۔ چار صدیوں کے قریب تاریخ سمیٹے یہ مقبرہ ایک سوال کرتا ہے: جس ورثے کو کبھی شاہی شان سے تعمیر کیا گیا، اسے وقت کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اب کیا کیا جا رہا ہے؟


لاہور کے علاقے شاہدرہ میں ایک طرف مغل بادشاہ جہانگیر کا مقبرہ ہے اور دوسری طرف ملکہ نور جہاں کی آخری آرام گاہ۔ ان دونوں کے درمیان مقبرہ آصف خان واقع ہے، جو نور جہاں کے بھائی اور ممتاز محل کے والد تھے۔
یہ عمارت صرف مغلیہ فنِ تعمیر کا شاہکار نہیں، بلکہ اقتدار کی سیاست، خاندانی اختلافات اور وقت کے ہاتھوں بکھرتی عظمت کی ایک خاموش داستان بھی ہے۔


مرزا ابوالحسن آصف خان مغل دربار کے بااثر امرا اور سپہ سالاروں میں شمار ہوتے تھے۔ 1636ء میں انہیں "خانِ خاناں” کا خطاب ملا۔ 12 جون 1641ء کو جنگ کے دوران ان کی وفات ہوئی، جس کے بعد شہنشاہ شاہ جہاں نے تقریباً تین لاکھ روپے کی لاگت سے، چار سال کے عرصے میں ان کا مقبرہ تعمیر کروایا۔


نور جہاں اور آصف خان سگے بہن بھائی تھے، مگر تخت کی سیاست نے دونوں کو مخالف صفوں میں لا کھڑا کیا۔ آج شاہدرہ کی یہ عمارتیں اقتدار اور رشتوں کی اسی داستان کی گواہ ہیں۔


مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد سکھ دور میں مقبرے سے سنگِ مرمر اور قیمتی پتھر اتار لیے گئے۔ یہ پتھر گولڈن ٹیمپل امرتسر اور حضوری باغ بارہ دری لاہور میں استعمال کیے گئے۔ رہی سہی کسر 1988 کے سیلاب نے پوری کر دی، جس نے عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے بحالی منصوبے میں درج ذیل کام شامل ہیں
عمارت کی ساخت کی مضبوطی
اینٹوں کی مرمت
گنبد کی بحالی
تاریخی آرائش کی بحالی
چار دیواری کی تعمیر و مرمت
باغ کی بہتری

صدیوں کی تاریخ سمیٹے مقبرہ آصف خان آج بھی لاہور کے مغلیہ ورثے کا اہم حصہ ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بحالی کے اقدامات محض منصوبوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ عملی طور پر بھی نظر آئیں۔
کیا یہ منصوبہ ماضی کی عظمت کی باقی ماندہ نشانیاں بچا سکے گا؟ اس کا جواب بحالی کے اگلے مراحل میں ملے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے