لاہور (پنجاب پوسٹ) فارمن کرسچن کالج لاہور کے شعبہ انگریزی کے زیرِ اہتمام تیسری بین الاقوامی کانفرنس ’’کنیکٹنگ وائسز 2026‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرینِ تعلیم، محققین اور دانشوروں نے شرکت کی۔ دو روزہ کانفرنس میں زبان، ادب، ثقافتی تنوع، سماجی نمائندگی اور جدید ابلاغی رجحانات سمیت مختلف علمی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کانفرنس کا مقصد عالمی سطح پر علمی روابط کو فروغ دینا، بین الشعبہ جاتی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا اور مختلف زبانوں، ثقافتوں اور نقطہ ہائے نظر کو ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔کانفرنس کے بین الاقوامی کلیدی خطابات امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھی کارتھ اور برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ایلیسبیتا آدَمی نے کیے۔ پروفیسر کیتھی کارتھ نے ’’فالنگ اسٹوریز‘‘ جبکہ ڈاکٹر ایلیسبیتا آدَمی نے ’’بیونڈ لینگویج: دی سیمیوٹکس آف شوئنگ‘‘ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
قومی کلیدی خطاب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ جنجوعہ نے ’’ملٹی موڈل کمیونیکیشن میں رجسٹر کی ازسرِنو تشکیل‘‘ کے موضوع پر کیا۔کانفرنس کے دوران ’’ریپریٹو پالیٹکس اِن اپلائیڈ لنگوسٹکس اینڈ ٹی ای ایس او ایل‘‘ کے عنوان سے خصوصی مباحثے کا اہتمام بھی کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر سیدہ صغریٰ نقوی نے پریوں کی کہانیوں میں صنفی دقیانوسی تصورات کے موضوع پر ایک خصوصی ورکشاپ منعقد کی۔
کانفرنس کے اختتامی سیشن میں فاؤنڈیشن یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ ایوب بھٹی اور جرمنی کی بریمن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان اے بیٹ مین نے کلیدی خطابات کیے۔ مقررین نے بین الشعبہ جاتی تحقیق، تعلیمی قیادت اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے جدید پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔اختتامی تقریب سے ریکٹر ایڈلٹن، وائس ریکٹر ڈاکٹر ٹرمبل، ڈین آف ہیومینیٹیز ڈاکٹر الطاف خان اور مہمانِ خصوصی نے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں:کوٹ لکھپت جیل ، شاہ محمود قریشی چہل قدمی کے دوران اچانک گر پڑے، اب طبعیت کیسی ہے ؟
اس موقع پر شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ سید نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا، جبکہ ڈاکٹر گلوریا کیلب نے شرکاء میں ایوارڈز اور تعریفی اسناد تقسیم کیں۔کانفرنس کے شرکاء نے مختلف علمی و تحقیقی موضوعات پر اپنے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کیا۔کانفرنس کو مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علمی نقطہ ہائے نظر کے درمیان روابط کے فروغ اور تحقیق کے نئے امکانات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اہم علمی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا۔













