لاہور (پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ نے آن لائن خریداری میں صارفین کے حقوق سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا۔
عدالت
آن لائن خریداری کا آرڈر منسوخ ہونے پر صارف سول عدالت کے بجائے کنزیومر کورٹ سے رجوع کرے۔آن لائن خریداری کے لیے ادائیگی کرنے والا شخص صارف کے زمرے میں آتا ہے۔خریدی گئی اشیاء کی عدم فراہمی صارف کی قانونی حیثیت ختم نہیں کرتی۔
جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے ڈاکٹر محمد احتشام قمر کی درخواست خارج کرنے کا تحریری حکم جاری کیا۔آن لائن آرڈر منسوخ ہونے اور رقم واپس ملنے کے باوجود کنزیومر کورٹ کا دائرہ اختیار برقرار رہتا ہے۔ہرجانے کا دعویٰ جنرل ڈیمیجز کا نام دے کر سول عدالت میں دائر نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:کرپشن الزامات اور گرفتاریاں، ڈی سی خانیوال کیس میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
صارف اور فروخت کنندہ کے تنازع کا فیصلہ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ہوگا۔آن لائن آرڈر کی منسوخی پر ذہنی اذیت اور ہرجانے کا دعویٰ بھی کنزیومر کورٹ میں سنا جائے گا۔لاہور ہائیکورٹ نے سول عدالت کا دعویٰ واپس کرنے اور اپیل خارج کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
صارفین کے تنازعات میں متعلقہ فورم کا تعین دعوے کی نوعیت سے ہوگا۔ہرجانے کی اصطلاح استعمال کرنے سے عدالت کا دائرہ اختیار تبدیل نہیں ہوگا۔
فیصلہ
سفائر سے آن لائن کپڑوں کی خریداری کا تنازع، صارف کی آئینی درخواست خارج کی جاتی ہے۔شہری نے 6 ہزار 480 روپے کی آن لائن خریداری کے بعد 21 لاکھ 16 ہزار 480 روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا 93 سینئر سول ججز کو ایڈیشنل سیشن جج کے عہدوں پر ترقی دینے کا فیصلہ










