خانیوال(پنجاب پوسٹ)خانیوال میں اکبر بازار بیوٹیفکیشن منصوبے میں مبینہ مالی گھپلوں کے انکشاف کے بعد صوبائی سطح پر تیزی سے کارروائی دیکھنے میں آئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سخت نوٹس کے بعد سابق ڈپٹی کمشنر خانیوال ملیحہ رشید کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر ترقیاتی فنڈز میں کروڑوں روپے کے مبینہ غبن، مالی بے ضابطگیوں اور منصوبے میں تاخیر کے الزامات ہیں۔ یہی پیش رفت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ اس کیس میں اب تک کیا سامنے آیا ہے۔
وزیراعلیٰ کا نوٹس اور احکامات
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خانیوال کے بیوٹیفکیشن پلان میں مبینہ گھپلوں کا سخت نوٹس لیا۔ انہوں نے ٹھیکیدار کی فوری گرفتاری اور رقم کی ریکوری کا حکم دیا، اور ہدایت کی کہ ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی کے معاملے پر سابق ڈی سی خانیوال کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔
ٹھیکیدار کی ایڈوانس رقم اور فرار
اطلاعات کے مطابق اکبر بازار بیوٹیفکیشن پراجیکٹ کا ٹھیکیدار ایڈوانس ادائیگی وصول کر کے فرار ہو گیا۔ ایڈوانس پیمنٹ کی منظوری اور اس کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور یہی نکتہ تحقیقات کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
منصوبے میں تاخیر
اکبر بازار بیوٹیفکیشن منصوبے کی تکمیل میں بلاجواز تاخیر بھی کی گئی۔ اس سے شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا رہا، جبکہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکا۔
سابق ڈی سی کی گرفتاری
کرپشن کے مبینہ الزامات پر سابق ڈپٹی کمشنر خانیوال ملیحہ رشید کو لاہور سے گرفتار کیا گیا۔ قانونی کارروائی اکبر بازار بیوٹیفکیشن منصوبے اور دیگر ترقیاتی کاموں کے فنڈز میں کروڑوں روپے کے مبینہ غبن، مالی بے ضابطگیوں اور تاخیر کے الزامات پر عمل میں آئی۔
اب تک کے اہم نکات
1-وزیراعلیٰ نے ٹھیکیدار کی گرفتاری اور ریکوری کا حکم دیا۔
2-سابق ڈی سی کو شامل تفتیش کرنے کی ہدایت دی گئی.
3-ایڈوانس رقم لے کر فرار ہوا.
4-منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہوئی.
5-سابق ڈی سی ملیحہ رشید کو لاہور سے گرفتار کیا گیا.
آگے کیا ہوگا؟
یہ تمام الزامات تاحال مبینہ ہیں اور ان کا فیصلہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہو گا۔ توقع ہے کہ تفتیش میں ایڈوانس ادائیگی کی منظوری، فنڈز کے استعمال اور ٹھیکیدار کے فرار کے محرکات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ٹھیکیدار کی گرفتاری اور ریکوری کی پیش رفت پر بھی نظر رہے گی۔











