لاہور(پنجاب پوسٹ)اینٹی کرپشن حکام نے شہر کی عدالتوں میں مبینہ طور پر جعلی کورٹ فیس ٹکٹوں کی فروخت کا بڑا اسکینڈل بے نقاب کرتے ہوئے کاپی برانچ کے انچارج سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جعلی ٹکٹوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا، جبکہ اس سے عدالتی نظام کی ساکھ اور سائلین کے اعتماد کو بھی دھچکا لگا۔
مقدمے میں نامزد ملزمان میں انچارج کاپی برانچ زمان اللہ، ریکارڈ اسٹور کیپر اعجاز احمد اور ایک پرنٹنگ پریس کے مالک محمد ندیم شامل ہیں۔ ان سمیت چار ملزمان نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔اینٹی کرپشن عدالت کے جج جاوید اقبال نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت میں 10 نومبر تک توسیع کر دی۔
مبینہ طور پر جعلی کورٹ فیس ٹکٹیں سیشن کورٹ، سول کورٹس، ماڈل ٹاؤن کچہری، ضلع کچہری اور کینٹ کچہری سمیت لاہور کی دیگر عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات اور فیصلوں کی نقول کے حصول کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ الزام ہے کہ یہ ٹکٹیں عدالتی احاطوں میں کھلے عام فروخت کی جاتی تھیں۔
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق اس معاملے میں عدالتی انتظامیہ کے بعض اہلکاروں، متعلقہ عملے اور اسٹامپ فروشوں پر مشتمل ایک منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ جعلی ٹکٹیں تیار کرنے کے لیے باقاعدہ پرنٹنگ پریس قائم کیا گیا تھا۔
اینٹی کرپشن نے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ یاد رہے کہ مقدمے میں نامزد افراد پر لگائے گئے الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔














