لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں جاتی عمرہ میں وفاقی حکومت کی 10 کنال اراضی پر سابق ایم پی اے اختر حسین بادشاہ کے مبینہ قبضے کا معاملہ زیر سماعت آیا۔ عدالت نے اراضی واگزار کروا کر بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیتے ہوئے فل بورڈ آف ریونیو کا زمین کی ملکیت سے متعلق فیصلہ معطل کر دیا اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
جسٹس چوہدری محمد اقبال نے عبدالمعید کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ ملک راحیل نے دلائل دیے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بورڈ آف ریونیو نے 1964 میں 10 کنال اراضی درخواست گزار کے نام منتقل کی تھی، تاہم سابق ایم پی اے اختر حسین بادشاہ نے مبینہ ملی بھگت سے 1994 میں اراضی اپنے نام الاٹ کروا لی۔
درخواست گزار کے مطابق سابق ایم پی اے نے زمین پر قبضہ کرکے تعمیراتی کام شروع کر رکھا ہے، جبکہ 5 دسمبر 2013 کو چیف سیٹلمنٹ کمشنر نے تمام الاٹمنٹ خارج کر دی تھیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ عدالت 24 دسمبر 2021 کو بھی تمام اراضی بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دے چکی ہے۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ سرکاری زمین پر قبضہ ختم کروا کر تعمیراتی کام رکوانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔










