لاپتہ خواتین کی تلاش کیلئے ٹک ٹاکر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی،صاحب تو ٹک ٹاک بناتا رہتا ہے اس نے کام کب کرنا ہے ؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے پنجاب میں لاپتہ خواتین کی بازیابی کے معاملے پر پولیس افسران کے ٹک ٹاک بنانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جو افسر سوشل میڈیا پر ذاتی نمائش میں مصروف رہتا ہو، وہ اپنی سرکاری ذمہ داریاں کب پوری کرے گا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ مسنگ خواتین جیسے حساس معاملے کی تحقیقات ایسے افسر کے سپرد کیوں کی گئیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں لاپتہ خواتین کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ڈی آئی جی انوسٹیگیشن پنجاب کی جانب سے خواتین کے لاپتہ ہونے کے کیسز کی تحقیقات کے لیے جو ٹیم تشکیل دی گئی ہے، اس کی سربراہی ڈی آئی جی کرائم کر رہے ہیں۔

یہ سنتے ہی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ مسنگ خواتین جیسے سنگین معاملے پر آپ نے ایسے افسر کو تعینات کر دیا ہے جو پہلے ہی دیگر معاملات میں مصروف رہتے ہیں، وہ اس کیس پر کیا کام کریں گے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ صاحب تو ٹک ٹاک بناتے رہتے ہیں، انہوں نے کام کب کرنا ہے؟ انہوں نے پولیس افسران کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے اور انہیں اپ لوڈ کرنے کی روش پر بھی سوالات اٹھائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پولیس افسران کا ٹک ٹاک بنا کر اپ لوڈ کرنا سروس رولز میں شامل ہے؟ کیا رولز میں ٹک ٹاک بنانے کی اجازت دی گئی ہے؟جواب میں ڈی آئی جی کرائم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب پولیس یونیفارم میں کوئی ٹک ٹاک نہیں بنتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اہلکار یا افسر ٹک ٹاک بناتا ہے، اس کے خلاف فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔
تاہم چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ جو شخص اپنی ذاتی نمائش سوشل میڈیا پر کرتا ہے، اس نے کام کیا کرنا ہے؟

واضح رہے کہ ایک خاتون نے اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت لاپتہ خواتین کے معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے