لاہور ہائیکورٹ نے گاڑی کی سپرداری کی درخواست میرٹ پر خارج کر دی، سی سی پی او طلب، تفتیشی افسر معطل

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے گاڑی کی سپرداری کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے بعد سی سی پی او لاہور کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست میرٹ پر خارج کر دی۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے طاہر علی پھول کی درخواست پر سماعت کی، جس میں پولیس نظام پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔

عدالت نے 2016 میں درج مقدمے کا چالان جمع نہ کروانے پر سی سی پی او لاہور کو طلب کیا تھا، جس پر وہ رپورٹ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چالان 31 اکتوبر کو جمع کرا دیا گیا۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ میں کیس لگا تو چالان بھی جمع ہو گیا۔

درخواست گزار نے گاڑی یوسف نامی شخص سے خریدی تھی۔پولیس ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے، تاہم 2016 کے کیسز ابھی کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوئے، اس لیے مشکل پیش آئی۔متعلقہ تفتیشی افسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔گاڑی ٹمپرڈ تھی، اس لیے مجسٹریٹ نے اسے سپرداری پر نہیں دیا۔گاڑی کے مالک نے اسے کرائے پر دے رکھا تھا۔چالان عدالت میں جمع کروایا جا چکا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کے تحت چالان جمع ہونے کے باوجود عدالتی حکم پر دوبارہ تفتیش ہو سکتی ہے۔

آپ کا سسٹم خراب ہے، کوئی پولیس والا ٹھیک کام نہیں کرتا۔یہ کوئی حل نہیں کہ معطل کر دیا اور پھر بحال کر دیا۔پورا سسٹم خراب ہے، کیسے ٹھیک ہو گا؟کوئی شخص ٹھیک کام کرنے کو تیار نہیں۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ گاڑی کس سے خریدی اور کاغذات کہاں ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ بغیر ملکیت کے گاڑی حاصل کرنا چاہ رہے ہیں، آپ کے خلاف تو ایک ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ جعلی نمبر لگا کر گاڑی چلاتے رہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی پی او لاہور کی رپورٹ کے بعد درخواست میرٹ پر خارج کر دی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے