لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں ایس ایچ او تھانہ فیروز والا رانا سرور کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس نے رپورٹ پیش کرنے کے طریقۂ کار پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ کو کل ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
سماعت کا احوال
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سید ظہیر حسین شاہ کی درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت ایس ایچ او کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر چیف جسٹس نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "آپ کو رپورٹ پیش کرنے کا ہی نہیں پتہ۔” انہوں نے استفسار کیا کہ کیا اعلیٰ عدالت میں اس طرح رپورٹ پیش کی جاتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ، 8 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کے تبادلے، نوٹیفکیشن جاری
عدالت کا حکم
چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ کل رپورٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست پر مزید سماعت کل 4 نومبر تک ملتوی کر دی۔
درخواست گزار کا موقف
درخواست گزار سید ظہیر حسین شاہ کا موقف ہے کہ تھانہ فیروز والا پولیس انہیں ہراساں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے 2024 میں فیروز والا پولیس کو انہیں ہراساں نہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم عدالتی حکم کے باوجود ایس ایچ او فیروز والا بدستور ہراساں کر رہا ہے۔
استدعا
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایس ایچ او فیروز والا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔










