لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے 24 سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کے خلاف دائر آئینی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ صوبائی حکومت کو عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنے انتظامات تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ تکنیکی، مالی اور پالیسی معاملات میں مداخلت کرنا ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
جسٹس خالد اسحاق نے ایسٹرن میڈیکل ٹیکنالوجی سروسز کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار کمپنی نے پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے 16 اکتوبر 2026 کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پنجاب حکومت پہلے سے موجود معاہدوں کے باوجود نئی سی ٹی اسکین مشینیں خرید رہی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق پنجاب کے 23 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں پہلے ہی سی ٹی اسکین کی سہولت فراہم کرنے کے معاہدے موجود ہیں، جن میں توسیع اور مشینوں کی اپ گریڈیشن پر بھاری اخراجات کیے گئے ہیں۔ نئی مشینوں کی خریداری سے سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ کمپنی نے 32 سلائس یا اس سے زائد ٹیکنالوجی کی مشینوں کی تکنیکی شرائط اور خریداری کے عمل کو بھی پی پی آر اے قوانین کے خلاف قرار دیا تھا۔
پنجاب حکومت کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عمران خان نے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کمپنی اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کر رہی ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق موجودہ معاہدوں میں حکومت کو نئی مشینوں کی خریداری سے روکنے کی کوئی شرط موجود نہیں اور نہ ہی حکومت کو اسپتالوں میں اندرونِ خانہ سی ٹی اسکین کی سہولت فراہم کرنے سے روکا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گڑھی شاہو ریلوے اسٹیشن پر، آر ایم سی ٹرین کا انجن ڈی ریل کیسے ہوا؟
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نئی خریداری کے عمل میں پی پی آر اے قوانین کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ درخواست گزار کے 23 اضلاع میں سی ٹی اسکین خدمات کے معاہدے برقرار ہیں اور مختلف ادوار میں ان میں توسیع بھی کی گئی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے پہلے خریداری کے عمل میں حصہ لیا اور اب اسی عمل کے خلاف اعتراضات اٹھا رہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں 24 سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری روکنے کی درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کر دی۔









