لاہور ہائیکورٹ کا ڈیلی ویجز ملازمین کے حق میں اہم فیصلہ، اہل ملازمین کو مستقل ورکرز کے قانونی حقوق دینے کا حکم

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے اہل ڈیلی ویجز، ورک چارجڈ اور کنٹیجنٹ پیڈ ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دے دیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے ملازمین کی 26 آئینی درخواستیں منظور کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے مستقل ورکرز کا درجہ دینے سے انکار کے احکامات غیر قانونی قرار دے دیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملازمین کو زبانی احکامات کے ذریعے ملازمت سے فارغ نہیں کیا جا سکتا۔ ملازمت ختم کرنے کے لیے تحریری حکم اور وجوہات دینا ضروری ہیں جبکہ کسی منفی کارروائی سے پہلے ملازم کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرنا لازم ہے۔

جسٹس خالد اسحاق نے فیصلے میں کہا کہ ملازمین کی بار بار 89 روزہ تقرریاں مستقل نوعیت کے کام کی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتیں۔ ملازم کی قانونی حیثیت کا تعین تقرری کے نام کے بجائے کام کی نوعیت اور مدت سے ہوگا۔ ڈیٹا انٹری آپریٹرز، سینیٹری ورکرز اور دیگر اہل ملازمین بھی مستقل ورکرز کے قانونی حقوق حاصل کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:حافظ نعیم الرحمان کی استنبول میں اخوان المسلمون کی عالمی قیادت سے ملاقات، مسلم دنیا کے اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی پر زور

عدالت نے واضح کیا کہ مستقل ورکرز کا قانونی درجہ ملنے کا مطلب سول سرونٹ کی حیثیت سے مستقلی یا سول سروس میں خودکار ریگولرائزیشن نہیں ہوگا، بلکہ اہل ملازمین کو اسٹینڈنگ آرڈرز 1968 کے تحت قانونی حقوق اور تحفظ حاصل ہوگا۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ملازمین کی تنخواہوں اور واجبات کا الگ سے تعین کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے پہلے ملازمین کو سماعت کا مناسب موقع دیا جائے۔ واجبات کے تعین میں کام نہیں تو اجرت نہیں کے اصول کو بھی مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے