رکشہ چلا کر مزدوری کرنے والے مسٹر پتلو کون ہیں؟ میچ کھیلنے کے لیے 10 روپے تک نہ تھے، آج اتنے مشہور کیسے ہوگئے؟

سیالکوٹ(پنجاب پوسٹ)کبھی رکشہ چلا کر مزدوری کی، کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا لیکن گراؤنڈ تک پہنچنے کے لیے 10 روپے بھی نہیں ہوتے تھے۔ آج وہ ٹک ٹاک پر اتنا مشہور ہے کہ لوگ اس کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے انتظار کرتے ہیں۔ مسٹر پتلو کو اپنی زندگی کی کہانی ڈرامہ سیریل ’پری زاد‘ سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہے۔ غربت سے شہرت اور خوشحالی تک پہنچنے والے اس شخص نے لوگوں کو ہنسانے کے لیے اپنا مذاق بنتے دیکھا، 8 سال مختلف ایپس پر قسمت آزمائی اور بالآخر وہ مقام حاصل کیا جس کا کبھی کرکٹ کے میدان میں سٹار بن کر خواب دیکھا کرتا تھا۔ لیکن حالیہ واقعے نے ایک بار پھر ان کی زندگی میں مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

مسٹر پتلو نے اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ غربت کے باعث انہیں کم عمری ہی میں کام کرنا پڑا۔ وہ رکشہ چلاتے رہے، تعمیراتی مقامات پر مزدوری کی اور مختلف فیکٹریوں میں بھی کام کیا۔ ان کے مطابق غربت کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ جب اپنے رشتہ دار بھی آپ کو ایسے کام کرتے دیکھتے ہیں تو بعض اوقات ان کا رویہ بدل جاتا ہے۔ انہیں رشتہ داروں کی طرف سے حقارت اور برے سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ جب ان کی دادی کا انتقال ہوا تو گھر والوں کے پاس جنازے کے موقع پر لوگوں کے لیے کھانا تیار کروانے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ اس وقت بعض رشتہ دار انہیں ’کمی‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ ان کے بقول آج حالات بدل چکے ہیں اور وہی رشتہ دار ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھر کے باہر دس، دس گھنٹے انتظار کرتے ہیں۔

مسٹر پتلو کو کرکٹ کا بہت شوق تھا اور وہ خود کو آل راؤنڈر سمجھتے تھے۔ ان کا خواب تھا کہ ایک دن وہ بھی کرکٹ کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کریں گے۔ جب وہ اپنے سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ لوگوں کو تصویریں بنواتے دیکھتے تو سوچتے کہ ایک دن وہ بھی سٹار بنیں گے۔ لیکن غربت نے یہ خواب پورا نہ ہونے دیا۔ ان کے مطابق انہیں میچ میں کھیلنے کا موقع تک نہیں ملتا تھا اور بعض اوقات گراؤنڈ پہنچنے کے لیے دس روپے بھی جیب میں نہیں ہوتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ تین سال تک وہ صرف کھلاڑیوں کو پانی پلاتے رہے۔

کرکٹ کا خواب پورا نہ ہونے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ ایک وقت میں ایک ایسی ایپ مقبول تھی جس پر لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے اور گفٹنگ کرتے تھے۔ ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ کیا تم یہ کام کر سکتے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ کون سا مشکل کام ہے۔ یوں انہوں نے مختلف ایپس پر کام شروع کیا اور تقریباً آٹھ سال تک قسمت آزماتے رہے۔

بعد ازاں وہ ٹک ٹاک پر آ گئے لیکن یہاں بھی ابتدا میں کامیابی نہیں ملی۔ وہ روزانہ چھ، چھ گھنٹے لائیو بیٹھتے لیکن دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ان کی زندگی میں ایک شخص آیا جسے وہ ’گیمبلر‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ شخص گوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے اور لاہور میں رہتا تھا۔ وہ صرف گفٹنگ نہیں کرتا تھا بلکہ اس کا گفتگو کرنے کا انداز بھی بہت اچھا تھا۔ مسٹر پتلو نے اسے مشورہ دیا کہ وہ بہت آگے جا سکتا ہے، بس ان کی بات مانے۔

مسٹر پتلو کے مطابق اسی دوست نے ان کی انگلش سنی تو مشورہ دیا کہ وہ انگریز خواتین کے ساتھ ٹک ٹاک لائیو پر آیا کریں۔ انہیں خود انگریزی بولنا نہیں آتی تھی جبکہ دوسری جانب خواتین انگریزی میں گفتگو کرتی تھیں۔ اس دوران ان کی گفتگو کی مزاحیہ کلپس بننے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔ لوگ انہیں تلاش کرنے لگے اور یوں مسٹر پتلو کی پہچان بننا شروع ہوئی۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے وہ اپنا مذاق اڑتے ہوئے بھی دیکھتے تھے، یعنی دوسروں کو ہنسانے کے لیے خود کو مزاح کا موضوع بننے دیا۔ ان کے مطابق انہوں نے ٹک ٹاک پر اپنی زبان کو بھی پروموٹ کیا اور اسی انداز نے انہیں ایک الگ شناخت دی۔

مسٹر پتلو کے مطابق شہرت ملنے کے بعد بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ کچھ لوگوں نے ان سے نفرت کرنا شروع کر دی اور یہ الزام لگایا کہ اب سب لوگ صرف پتلو کو دیکھتے ہیں، ہمیں کیوں نہیں دیکھتے؟ حالات ایسے ہوئے کہ انہیں پاکستان چھوڑ کر متحدہ عرب امارات جانا پڑا۔ گالی گلوچ کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے آج تک گالیاں نہیں دیں، اس کے باوجود ان پر ایسے الزامات لگتے رہے۔

متحدہ عرب امارات میں بھی انہیں خدشات کا سامنا رہا اور دوستوں نے کہا کہ ان کی ٹک ٹاک آئی ڈی بین ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول کچھ ٹک ٹاکرز کے ٹک ٹاک دفتر میں تعلقات تھے اور وہ چاہتے تھے کہ صرف ان کی آئی ڈی ہی نہیں بلکہ ان کا چہرہ بھی بین کر دیا جائے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔

مسٹر پتلو نے بتایا کہ انہیں بہت غصہ آتا تھا لیکن ’گیمبلر‘ نے انہیں سمجھایا کہ لڑائی نہیں کرنی اور نہ ہی کسی کو گالیاں دینی ہیں۔ اس دوست نے انہیں اپنے رویے پر قابو رکھنے اور لوگوں کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آنے کا مشورہ دیا۔

اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ چھ بہن بھائی ہیں اور سب سے چھوٹے ہیں۔ ان کی والدہ کسی دوسرے کو فون نہیں کرتی تھیں لیکن انہیں ضرور کال کیا کرتی تھیں۔ وہ اپنی ہر بات والدہ سے شیئر کرتے تھے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے کسی لڑکی سے محبت نہیں کی، صرف اپنی ماں سے محبت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ والدہ کا خواب تھا کہ ان کا اپنا گھر ہو۔ جب اللہ نے انہیں مالی طور پر مستحکم کیا تو انہوں نے والدہ کو گھر بنا کر دیا، گاڑی خرید کر دی اور سونے کے زیورات بھی لے کر دیے۔ ان کے مطابق اب صورت حال یہ ہے کہ جس دن وہ ٹک ٹاک پر لائیو نہیں آتے، لوگ اداس ہو جاتے ہیں اور بعض رونے لگتے ہیں۔ لوگ انہیں کہتے ہیں کہ گفٹنگ کی فکر نہ کریں، ہم گفٹنگ کرتے رہیں گے، آپ بس لائیو بیٹھا کریں۔

مسٹر پتلو نے ڈرامہ سیریل ’پری زاد‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ ڈرامہ بہت پسند آیا اور احمد علی اکبر نے اس میں بہترین اداکاری کی۔ ان کے مطابق انہیں اپنی زندگی کی کہانی بھی کسی حد تک ’پری زاد‘ سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ دونوں میں غربت سے نکل کر خوشحالی اور شہرت تک پہنچنے کا پہلو موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دینے والے دوستوں کو اچھے وقت میں بھی نہیں بھلایا اور انہیں اپنے ساتھ رکھا، لیکن اب حالات ایک بار پھر بدل گئے ہیں۔

حال ہی میں سیالکوٹ کے فراز سپورٹس سٹیڈیم میں ان کی جانب سے منعقدہ تقریب کے دوران بھگدڑ مچ گئی۔ ڈسکہ روڈ پر ہونے والی اس تقریب میں انعامات کی قرعہ اندازی کے لیے گیٹ مقررہ وقت سے پہلے کھلنے کے بعد ہجوم بے قابو ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد مسٹر پتلو نے اپنی بے بسی اور مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق مشکل وقت میں جن دوستوں کو وہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، وہ بھی انہیں چھوڑ گئے اور آج وہ خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے