سیالکوٹ ( پنجاب پوسٹ ) ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ کے افسوسناک واقعے پر سیالکوٹ پولیس نے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
ترجمان سیالکوٹ پولیس کے مطابق واقعے پر ایس ایچ او تھانہ موترہ انسپکٹر مبین احمد چیمہ کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 1335/26 درج کیا گیا ہے، جس میں تقریب کے منتظم انصر محمود عرف مسٹر پتلو، کاشف، گراؤنڈ کے مالک حاجی شاہد جاوید اور دیگر منتظمین دانیال، منیر احمد، محسن علی، ارشاد علی، عبداللہ اور زوہیب منشاء سمیت 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ 40 سے 45 نامعلوم سکیورٹی گارڈز بھی مقدمے میں شامل ہیں۔

ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322، 431، 440، 188، 109، 148، 149 اور 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ابتدائی پولیس تحقیقات میں سامنے آیا کہ شادی کی تقریب کے منتظمین نے سوشل میڈیا کے ذریعے موٹر سائیکلوں، کار اور دیگر قیمتی انعامات کی قرعہ اندازی کی تشہیر کر کے بڑی تعداد میں لوگوں کو مدعو کیا تھا۔ تقریب کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر شرکاء کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا اعلان کیا گیا، جس کے نتیجے میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔ منتظمین نے اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔
بھگدڑ کے دوران مین ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جبکہ ہنگامہ آرائی اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات بھی پیش آئے۔*واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد فوری طور پر خود موقع پر پہنچ گئے* اور ڈی ایس پی ڈسکہ، ڈی ایس پی صدر سرکل، ایلیٹ فورس، متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز اور پولیس کی بھاری نفری کو طلب کر کے امدادی سرگرمیوں اور سکیورٹی انتظامات کی براہِ راست نگرانی سنبھال لی۔ڈی پی او کی ہدایات پر پولیس افسران اور جوان فوری طور پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔
پولیس نے ریسکیو 1122 کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے زخمیوں کی ہسپتال منتقلی میں بھرپور معاونت کی، ایمبولینسز کی بلا تعطل آمدورفت کے لیے راستے کلیئر کروائے اور شدید رش کے باوجود ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے۔پولیس کی بھاری نفری نے ہجوم کو منظم کرنے، امدادی ٹیموں کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے اور صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈی پی او کی موقع پر موجودگی اور پولیس و ریسکیو اداروں کی مربوط کارروائی سے امدادی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں مکمل کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملی۔بدقسمتی سے اس افسوسناک واقعے میں ایک شہری عقیل ولد بشیر احمد جاں بحق ہو گیا، جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی گئی اور طبی امداد کے بعد انہیں ہسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ کسی بھی عوامی اجتماع یا تقریب میں حفاظتی انتظامات سے غفلت اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ واقعے میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مقدمے کی تفتیش میرٹ پر مکمل کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔










