میں تو ہسپتال میں تھا، میرا کوئی قصور نہیں، رش کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی، مسٹر پتلو جذباتی ہوگئے، مزید کیا کہا؟

سیالکوٹ (پنجاب پوسٹ)سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ میں شادی سے متعلق تقریب کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو نے دوسرا ویڈیو بیان جاری کیا ہے، جس میں انتہائی جذباتی اور پریشان دکھائی دیتے ہوئے انہوں نے خود کو بے قصور قرار دیا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔ اس سے قبل وہ ایک ویڈیو پیغام میں اپنا پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔

مسٹر پتلو کے مطابق وہ تقریب سے پہلے اسی گراؤنڈ میں زخمی ہو گئے تھے اور ہسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں انہیں واقعے کی اطلاع ملی۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے میں انہیں سٹیڈیم میں موجود ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ وہ ہسپتال میں تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایونٹ عوام کے لیے رکھا گیا تھا اور اس کے لیے باقاعدہ این او سی حاصل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک حادثہ ہے، اور رش میں ایسا ہونے پر وہ ذمہ دار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ملک کے چار جھنڈے لگائے تھے اور قومی ترانہ چلایا جا رہا تھا۔

مسٹر پتلو نے بتایا کہ انہوں نے 20 بچیوں کی شادیاں کروانے اور کچھ لوگوں میں راشن تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامی اور تحفوں میں ملنے والی تمام چیزیں وہ عوام میں بانٹنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا، "میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں نے غریب بچیوں کی شادیاں کروانے کا اعلان کیا تھا۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دس دن پہلے انہوں نے ایک ویڈیو میں لوگوں کو سیلف ڈیفنس خود کرنے کا کہا تھا۔

اپنی جسمانی حالت کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ واش روم جانے کے لیے بھی زمین کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے میں نام شامل ہونے سے ان کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صحت یاب ہوتے ہی وہ خود پیش ہو جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے کچھ دوست جو باہر سے آئے تھے، لاپتہ ہیں۔

مسٹر پتلو نے شکوہ کیا کہ جو لوگ کل ان کے ساتھ کھڑے تھے، آج چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کے بقول سب انہیں استعمال کرتے تھے، اور بڑے لوگ جو کہتے وہ وہی کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو اپنی حالت بھی نہیں بتا سکتے تھے اور اب سارا معاملہ ان پر ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے خصوصی اپیل کی کہ معاملے کو دیکھا جائے۔ فیلڈ مارشل سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہوں نے پانچ سال تک اپنی فوج اور ملک کا دفاع کیا، مگر آج لوگ سارا الزام ان پر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے والد آخری سٹیج پر ہیں، والدہ حیات نہیں، اور وہ ایک غریب گھرانے سے اٹھ کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ اسی لیے وہ غریبوں کے بارے میں سوچتے تھے۔ ان کے مطابق ان کی نئی نویلی اہلیہ بھی تین دن سے رو رہی ہیں اور وہ خود کو بالکل اکیلا محسوس کر رہے ہیں۔

ویڈیو میں مسٹر پتلو شدید مایوسی کا شکار نظر آئے اور جینے کی خواہش نہ ہونے کی بات کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی انجام کے لیے تیار ہیں، مگر اس بات کو ذہن میں رکھا جائے کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے