پنجاب سکوٹی گرلز کو تحفظ کون دے گا ؟ قصور میں طالبات کو سکوٹیو ں سے گرانے والا گینگ کیسے گرفتار ہوا ؟

قصور (پنجاب پوسٹ) ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کے نوٹس لینے پر تھانہ اے ڈویژن پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بلدیہ چوک کے علاقے میں طالبات کو ہراساں کرنے کی نیت سے سکوٹی سے گرا کر زخمی کرنے والے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین کی طالبات کالج سے چھٹی کے بعد سکوٹی پر سوار ہو کر گھر جا رہی تھیں کہ بلدیہ چوک کے قریب موٹر سائیکل پر سوار تین ملزمان نے انہیں ہراساں کرنے کی نیت سے دھکا دے کر سکوٹی سے گرا دیا۔

اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں سکوٹی پر سوار طالبات گر کر زخمی ہو گئیں، جبکہ ملزمان موقع سے موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں شدید تشویش پائی گئی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے فوری نوٹس لیا اور متعلقہ پولیس کو ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کا حکم دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ طالبات کو ہراساں کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہ کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ڈی پی او کے احکامات پر ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن افتخار احمد جوئیہ کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا اور مختلف مقامات پر چھاپے مار کر تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے مطابق خواتین، بچے اور طالبات پولیس کی ریڈ لائن ہیں۔ ان کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی حرکت کی جرات نہ کر سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے