قصور (پنجاب پوسٹ) ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کے نوٹس لینے پر تھانہ اے ڈویژن پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بلدیہ چوک کے علاقے میں طالبات کو ہراساں کرنے کی نیت سے سکوٹی سے گرا کر زخمی کرنے والے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
واقعے کی تفصیلات
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین کی طالبات کالج سے چھٹی کے بعد سکوٹی پر سوار ہو کر گھر جا رہی تھیں کہ بلدیہ چوک کے قریب موٹر سائیکل پر سوار تین ملزمان نے انہیں ہراساں کرنے کی نیت سے دھکا دے کر سکوٹی سے گرا دیا۔
اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں سکوٹی پر سوار طالبات گر کر زخمی ہو گئیں، جبکہ ملزمان موقع سے موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں شدید تشویش پائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:قصور: لاکھوں روپے مالیت کی 150 ممنوعہ ڈور کی چرخیاں برآمد، 02 ملزمان گرفتار
ڈی پی او کا فوری نوٹس
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے فوری نوٹس لیا اور متعلقہ پولیس کو ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کا حکم دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ طالبات کو ہراساں کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہ کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ
ڈی پی او کے احکامات پر ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن افتخار احمد جوئیہ کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا اور مختلف مقامات پر چھاپے مار کر تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
ڈی پی او قصور کا بیان
ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے مطابق خواتین، بچے اور طالبات پولیس کی ریڈ لائن ہیں۔ ان کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی حرکت کی جرات نہ کر سکے۔













