اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) اپنے ہی کمسن بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر پیسوں کے عوض فروخت کرنے والا باپ گرفتار، نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بین الاقوامی چائلڈ پورنوگرافی نیٹ ورک بے نقاب کر دیا۔ ملزم اپنے چار سے پانچ سالہ بچوں کی ویڈیوز بنا کر ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس کے ذریعے فروخت کرتا تھا، جبکہ ویڈیوز کی خرید و فروخت کے لیے کرپٹو کرنسی استعمال کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اسلام آباد سرکل محمد شعیب خان نے پریس کانفرنس میں کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسے پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ قرار دیا۔
عالمی اداروں سے معاونت
محمد شعیب خان کے مطابق ملزم کا تعلق سکردو سے ہے، جبکہ اس نیٹ ورک کے خلاف عالمی اداروں کے تعاون سے تقریباً ایک ماہ تک کارروائی اور تحقیقات کی گئیں۔ تفتیش کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے نیٹ ورک کے اہم روابط اور شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ تحقیقات میں جانوروں کے ساتھ بدسلوکی پر مبنی ویڈیوز کی تیاری اور ترسیل کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
متاثرین کی شناخت خفیہ
ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان کا کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ اور عوام میں آگاہی کے لیے ایسے کیسز کی تفصیلات سامنے لانا ضروری ہے، تاہم متاثرہ بچوں کی شناخت کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور ملک کے کسی بھی حصے میں سائبر کرائم کا شکار ہونے والے افراد این سی سی آئی اے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
کمسن بچی کو ہراساں کرنے کا کیس
پریس کانفرنس میں دوسرے اہم کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے محمد شعیب خان نے کہا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک کمسن بچی کو گزشتہ دو سے تین سال سے مبینہ طور پر مسلسل ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ ہراسانی سے تنگ آ کر بچی نے تین مرتبہ خودکشی کی کوشش کی، جس کے بعد متاثرہ خاندان نے این سی سی آئی اے سے رابطہ کیا۔ ترجمان کے مطابق بچی اس وقت اسپتال میں زیرِ علاج ہے، جبکہ ادارے کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق ملزم کو ٹریس کرنے اور گرفتار کرنے کے لیے فوری کارروائی کی گئی۔
محمد شعیب خان نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے، جبکہ سائبر کرائم سے متعلق شکایات پر ملک بھر میں کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے متاثرین پر زور دیا کہ وہ خوف یا دباؤ کے باعث خاموش نہ رہیں اور متعلقہ ادارے سے رابطہ کریں۔
ملک گیر آگاہی مہم کا فیصلہ
ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مطابق سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے سخت کریک ڈاؤن جاری ہے، جبکہ ممنوعہ اور غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ این سی سی آئی اے جامعات میں آگاہی مہم شروع کرنے کے ساتھ اسکولوں میں والدین کو بھی آگاہی فراہم کرے گی، تاکہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور انہیں انٹرنیٹ کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے طریقوں سے آگاہ ہو سکیں۔ محمد شعیب خان نے کہا کہ وہ خود بھی اسلام آباد کے اسکولوں میں والدین کو آگاہی دینے کے لیے جائیں گے اور اس مہم کو ملک بھر تک پھیلایا جائے گا۔
کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن
پریس کانفرنس میں کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ محمد شعیب خان کے مطابق اسلام آباد میں متعدد مشتبہ کال سینٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ حالیہ کارروائیوں کے دوران ان کے خلاف سات ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ مقدمات کے مطابق 13 سے 14 ہزار ڈیوائسز بھی حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی شہریوں کو مبینہ طور پر لوٹ کر بیرونِ ملک چلے جانے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
غیر ملکی ملزمان کے خلاف کارروائی
چینی شہریوں سے متعلق محمد شعیب خان نے کہا کہ پاکستان میں جرم کرنے والوں کو ملکی قانون کے تحت سزا دی جائے گی اور سزا مکمل ہونے کے بعد ویزا منسوخ کرکے انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی پاکستان میں شہریوں کو لوٹے اور پھر بیرونِ ملک چلا جائے۔
ہیلپ لائن 1799 فعال
محمد شعیب خان نے شہریوں کو خبردار کیا کہ اپنا ون ٹائم پاس ورڈ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور ذاتی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ جعلی ویب سائٹس پر موجود نمبروں سے بھی محتاط رہیں، کیونکہ ان کے ذریعے شہریوں کو دھوکا دے کر مالی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کی ہیلپ لائن 1799 فعال ہے اور سائبر کرائم سے متعلق شکایات کے لیے شہری اس پر رابطہ کر سکتے ہیں۔












