سیالکوٹ (پنجاب پوسٹ) سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر نے کہ سیالکوٹ میں ایک رکشہ ڈرائیور نے ٹریفک چالان ہونے پر دلبرداشتہ ہو کر نہر میں چھلانگ لگا دی، عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی تھی۔ تاہم سیالکوٹ پولیس کی تحقیقات کے بعد یہ دعویٰ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ثابت ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق متوفی کا نہ کوئی چالان ہوا اور نہ ہی کسی ٹریفک اہلکار نے اسے روکا، جبکہ اہلِ خانہ نے واقعے کی اصل وجہ گھریلو پریشانیاں بتائی ہیں۔
واقعے کی تفصیلات
ترجمان سیالکوٹ پولیس کے مطابق مورخہ 24 اکتوبر 2026 کو تھانہ سمبڑیال کی حدود میں 36 سالہ شہری علی رضا نے نہر میں چھلانگ لگا دی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ سمبڑیال پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ ریسکیو ٹیم کے تعاون سے لاش کی تلاش اور اسے نہر سے نکالنے کا عمل مکمل کیا گیا۔بعد ازاں پولیس نے ضروری قانونی کارروائی کی اور متوفی کے ورثاء کے بیانات قلمبند کیے۔
ورثاء کے بیانات
متوفی کے اہلِ خانہ نے اپنے بیانات میں بتایا کہ علی رضا گھریلو پریشانیوں کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ ورثاء کے مطابق وہ گزشتہ چند روز سے بار بار اپنی زندگی ختم کرنے کا ذکر کر رہا تھا۔ اہلِ خانہ کے بیانات میں کہیں بھی ٹریفک چالان یا ٹریفک پولیس کا ذکر شامل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور: ایل پی جی 280 روپے کلو سے 650 روپے تک جا پہنچی، رکشہ ڈرائیوروں کا روزگار متاثر
ٹریفک پولیس کے ریکارڈ سے تصدیق
پولیس ترجمان کے مطابق جب سوشل میڈیا پر واقعے کو ٹریفک چالان سے جوڑا گیا تو ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے ٹریفک پولیس کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔ اس کے علاوہ ڈی ایس پی ٹریفک سے بھی باقاعدہ رپورٹ حاصل کی گئی۔
ریکارڈ اور رپورٹ کے مطابق
متوفی کا مورخہ 24 اکتوبر کو کوئی ٹریفک چالان جاری نہیں ہوا۔کسی ٹریفک پولیس اہلکار کی جانب سے اسے روکے جانے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔متعلقہ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بطور ثبوت پولیس کے پاس موجود ہے۔
پولیس کا مؤقف اور عوام سے اپیل
سیالکوٹ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کو ٹریفک چالان سے جوڑنا سراسر بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہے۔ ترجمان نے شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ انسانی جان کے ضیاع جیسے حساس واقعات پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے سے گریز کریں۔
پولیس نے خبردار کیا ہے کہ دانستہ طور پر جھوٹی خبریں اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔












