کیا عدلیہ خراب ہے ؟ کیا کریں عدلیہ خراب ہے جو بول نہیں سکتی ؟ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کو یہ ریمارکس کیوں دینا پڑے ؟

لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں چیک ڈس آنر کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کا لہجہ غیر معمولی طور پر تلخ ہو گیا۔ پانچ سال گزر جانے کے باوجود ملزم کی عدم گرفتاری پر پولیس کی کارکردگی نے انہیں برہم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس برسوں گواہ پیش نہیں کرتی، جرمانے اور تنخواہوں کی بندش کا بھی اثر نہیں ہوتا، اور پھر الزام عدلیہ پر آتا ہے۔ اسی بے بسی میں وہ جملے ادا ہوئے جو اب زیرِ بحث ہیں۔ ان کا مطلب یہ نہیں کہ عدلیہ خود کو خراب مان رہی ہے، بلکہ یہ پولیس نظام پر ایک تلخ طنز تھا۔

ملزم شہباز نور کے خلاف 20 لاکھ روپے کے چیک ڈس آنر کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ سال 2021 میں پولیس نے چالان تو عدالت میں جمع کرا دیا، مگر ملزم کو گرفتار نہ کیا۔ یوں پانچ سال گزر گئے اور مدعی انصاف کا منتظر رہا۔ اس تاخیر پر عدالت نے سخت نوٹس لیا۔ سماعت کے موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وقاص عمر اور ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب پولیس عدالتی احکامات پر عمل نہیں کرتی تو سینئر افسران کو طلب کرنا پڑتا ہے، لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ عدلیہ خراب ہے۔ انہوں نے مزید کہا:

پولیس چھ چھ سال گواہ پیش نہیں کرتی، پھر بھی عدلیہ کو خراب کہا جاتا ہے۔

عدالتیں پولیس کو جرمانے کرتی ہیں، مگر حالات ٹھیک نہیں ہوتے۔

پولیس افسروں کی تنخواہیں بند کی جاتی ہیں، مگر تھوڑی سی تنخواہ بند ہونے سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟

چیف جسٹس نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس والے صبح مدعی پر دباؤ ڈال کر اسے عدالت لے آئیں گے اور کیس واپس کرا دیں گے۔ ان کے مطابق ایسے مقدمات، جن میں مدعی درخواست واپس لے لے، پولیس افسروں کو اچھے لگتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت سے نکلنے کے بعد مدعی کو دوبارہ ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کمپیوٹر پر ایف آئی آر درج کرنے کے طریقے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے معاملات بگڑ رہے ہیں، کیونکہ پولیس اپنی مرضی کی باتیں ایف آئی آر میں شامل کر دیتی ہے۔یہ ریمارکس ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں: جب عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہی نہ ہو تو انصاف کا عمل کیسے آگے بڑھے گا، اور اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے