قتل کر کے بھاگا، مگر سیف سٹی کیمروں نے پیچھا نہ چھوڑا؛ فیصل آباد:ریحان اشرف کا قاتل شاہ کورٹ میں گرفتار

فیصل آباد (پنجاب پوسٹ)شہر کے معروف صنعتکار ریحان اشرف کے قتل کی واردات میں پولیس کو بڑی کامیابی مل گئی۔ مرکزی ملزم عمیر کو شاہ کورٹ سے گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی نشاندہی سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق ملزم کی نقل و حرکت کیمروں میں محفوظ ہو گئی تھی، جس کی بنیاد پر اسے ٹریس کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی سیف سٹی رضا اللہ خان نے بتایا کہ ملزم عمیر نے واردات سے قبل اپنی موٹر سائیکل ہلال احمر اسپتال میں کھڑی کی۔ اس کے بعد وہ واردات کے لیے روانہ ہوا۔

ایس ایس پی کے مطابق ملزم نے واردات کے بعد دوبارہ اسپتال واپس آ کر اپنی موٹر سائیکل حاصل کی اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تمام مناظر سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج میں واضح طور پر ریکارڈ ہوئے۔

رضا اللہ خان نے مزید بتایا کہ فوٹیج میں ملزم کو واردات کے بعد جڑانوالہ روڈ پر فرار ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ کیمروں کی مدد سے اس کے فرار کے راستے کا تعین کیا گیا، جو بالآخر اس کی گرفتاری کا سبب بنا۔

تھانہ صدر فیصل آباد میں درج ایف آئی آر کے مطابق مدعی محمد حسن اشرف ولد محمد اشرف، فیصل آبادمیں بتایا کہ 17 اکتوبر کی رات تقریباً 9 بجے وہ اپنے بھائیوں ریحان اشرف اور محمد اکرام کے ہمراہ ٹویوٹا سائگنس ( اسلام آباد) میں برگر پوائنٹ پر کھانا کھانے آئے، جہاں گاڑی چناب کلب کے ویلے پارکنگ والوں کے حوالے کی گئی۔ کھانے کے بعد گاڑی واپس مانگنے پر معلوم ہوا کہ گاڑی غائب ہے اور ویلے پارکنگ والا بھی موجود نہیں۔

ٹریکر کمپنی سے رابطہ کرنے اور 15 پر اطلاع دینے کے بعد ٹریکر کی لوکیشن واٹس ایپ پر موصول ہوئی، جس کے مطابق گاڑی جڑانوالہ روڈ پر موجود تھی۔ مدعی کے مطابق وہ دوسری گاڑی میں وہاں پہنچے تو یو بی ایل بینک کے قریب اپنی گاڑی کھڑی نظر آئی، اور ٹریفک بلاک ہونے کے باعث ریحان اشرف گاڑی کی طرف چند قدم کے فاصلے پر تھے کہ دو نامعلوم افراد گاڑی سے نکل کر فرار ہونے لگے۔

ریحان نے للکار کر گاڑی لے جانے سے روکا تو ایک نامعلوم ملزم نے فائر کر دیا، جو ریحان کی گردن پر لگا اور وہ شدید زخمی ہو کر گر پڑے۔ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے جبکہ زخمی کو لائف ہاسپٹل لے جایا گیا، تاہم وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔ پولیس نے مقدمہ زیر دفعات 392 اور 302 ت پ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے