بڑی جامعات میں طلبہ یونین انتخابات کرائیں گے، سرکاری اسکولوں کی نجکاری کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے: صاحبزادہ وسیم حیدر

لاہور (پنجاب پوسٹ) ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ جمعیت چترال سے کراچی اور گوادر سے آزاد کشمیر تک طلبہ کو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم کرے گی۔ سرکاری اسکولوں کی نجکاری کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا، جبکہ ملک کی بڑی جامعات میں طلبہ یونین انتخابات کے لیے عملی جدوجہد بھی کی جائے گی۔

219840

وہ جامعہ پنجاب میں طلبہ یونین کے موضوع پر منعقدہ اسٹڈی سرکل سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی حذیفہ عثمان، ناظم جامعہ پنجاب احسن فرید اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ تعلیم پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ اور قومی ترجیح ہے، اور ملک کی ترقی و خوشحالی کا راز تعلیم میں سرمایہ کاری اور معیاری سہولیات کی فراہمی میں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن شعبۂ تعلیم بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ ملک بھر میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ پنجاب میں یہ تعداد 97 لاکھ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت اس سنگین مسئلے پر مطلوبہ توجہ نہیں دے رہی اور مسائل حل کرنے کے بجائے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

ناظمِ اعلیٰ نے کہا کہ جی ڈی پی کا محض 0.8 فیصد تعلیم پر خرچ ہو رہا ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ جامعات مالی و انتظامی مسائل سے دوچار ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کئی برسوں سے خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ 2017ء سے منجمد ہے، جو اعلیٰ تعلیم سے حکومتی عدم توجہی کا واضح ثبوت ہے۔

طلبہ یونینز پر پابندی کو انہوں نے طلبہ کے بنیادی، جمہوری اور آئینی حق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے مطابق یونینز نوجوانوں کو قیادت ابھارنے، جمہوری اقدار سیکھنے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے مؤثر آواز اٹھانے کا پلیٹ فارم دیتی ہیں، مگر حکمران نہیں چاہتے کہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں اختیار اور نمائندگی ملے، اور انہیں طلبہ کی منظم طاقت اور شعور سے خوف محسوس ہوتا ہے۔

وسیم حیدر نے بتایا کہ طلبہ یونین انتخابات کے لیے تمام طلبہ تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور مشترکہ نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے گا۔ انہوں نے طلبہ تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ مسائل پر ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور حقوق کی جدوجہد مشترکہ پلیٹ فارم سے آگے بڑھائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت طلبہ کے بنیادی حقوق کے تحفظ، تعلیمی اداروں میں جمہوری روایات کی بحالی، یونین انتخابات کے انعقاد اور تعلیمی مسائل کے حل کی جدوجہد جاری رکھے گی، اور اس کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مرحلے میں طلبہ یونینز کی بحالی اور تعلیمی مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا تاکہ مشترکہ مشاورت سے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے